السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: النكاح وملك اليمين لا يجتمعان باب: اس بیان میں کہ نکاح اور ملکِ یمین (حقِ ملکیت) دونوں بیک وقت ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔
حدیث نمبر: 13737
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا ⦗٢٠٧⦘ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً وَرِثَتْ مِنْ زَوْجِهَا شِقْصًا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " هَلْ غَشِيتَهَا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " لَوْ كُنْتَ غَشِيتَهَا لَرَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ "، ثُمَّ قَالَ: " هُوَ عَبْدُكِ إِنْ شِئْتِ بِعْتِيهِ، وَإِنْ شِئْتِ وَهَبْتِيهِ، وَإِنْ شِئْتِ أَعْتَقْتِيهِ، وَتَزَوَّجْتِيهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت اپنے خاوند کے مال میں ایک غلام کی وارث بنی تو یہ معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے (اس غلام سے) کہا: کیا تو نے اس سے ہم بستری کی؟ اس نے کہا: نہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو نے ہم بستری کی ہوتی تو میں تجھ کو سنگسار کر دیتا، پھر اس عورت سے کہا: وہ تیرا غلام ہے اگر چاہے تو بیچ دے اگر چاہے ہبہ کر دے اگر چاہے تو اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لے۔