السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: النكاح وملك اليمين لا يجتمعان باب: اس بیان میں کہ نکاح اور ملکِ یمین (حقِ ملکیت) دونوں بیک وقت ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔
حدیث نمبر: 13735
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، نا حُصَيْنٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدًا لَهَا، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: أَلَيْسَ اللهُ تَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: {أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٣]، فَضَرَبَهُمَا وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْأَمْصَارِ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدًا لَهَا أَوْ تَزَوَّجَتْ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ أَوْ وَلِيٍّ فَاضْرِبُوهُمَا الْحَدَّ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس نے اپنے غلام سے شادی کر لی تھی، عورت نے کہا: کیا اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد نہیں فرمایا: ﴿أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 3] ”جو مالک ہوئے تمہارے دائیں ہاتھ کے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں پر حد لگائی اور ان کے درمیان تفریق ڈال دی اور گورنروں کی طرف یہ خط لکھا کہ جو عورت بھی اپنے غلام سے شادی کرے یا بغیر دلیل کے شادی کرے یا ولی کے بغیر تو ان دونوں پر حد نافذ کرو۔