السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا نكاح، إلا بشاهدين عدلين باب: اس فرمان کا بیان کہ ”دو عادل گواہوں کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“۔
حدیث نمبر: 13726
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِنِكَاحٍ لَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ، فَقَالَ: " هَذَا نِكَاحُ السِّرِّ، وَلَا أُجِيزُهُ وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهِ لَرَجَمْتُ ".حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ایک ایسے نکاح میں بلایا گیا جس میں (گواہی کے لیے) صرف ایک مرد اور ایک عورت تھی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ خفیہ نکاح ہے، میں اس کو جائز قرار نہیں دیتا؛ اگر مجھے اس کے بارے میں کسی کے متعلق پہلے پتا چل جاتا تو میں ان کو رجم کر دیتا۔