السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: النكاح لا يقف على الإجازة باب: اس بیان میں کہ نکاح (عقد ہو جانے کے بعد کسی کی) اجازت پر موقوف نہیں رہتا۔
حدیث نمبر: 13712
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيِّ، وَأَنَا أَسْمَعُ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى الدِّمَشْقِيَّ حَدَّثَهُ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَإِنْ ⦗٢٠١⦘ نُكِحَتْ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ أَصَابَهَا، فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ ".حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”عورت کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اگر اس کا نکاح کر دیا گیا تو وہ نکاح باطل ہے،“ یہ بات آپ ﷺ نے تین دفعہ کہی، ”اور اگر اس نے دخول کر لیا تو اس کے لیے حق مہر ہو گا، اگر ولی جھگڑا کریں تو سلطان ولی ہو گا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔“