حدیث نمبر: 13660
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ حَسَنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، خَطَبَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أُمَّ كُلْثُومٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: إِنَّهَا تَصْغُرُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي " فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ لِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَبٌ وَنَسَبٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ، لِحَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: زَوِّجَا عَمَّكُمَا، فَقَالَا: هِيَ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ تَخْتَارُ لِنَفْسِهَا فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُغْضَبًا، فَأَمْسَكَ الْحَسَنُ بِثَوْبِهِ وَقَالَ: لَا صَبْرَ عَلَى هُجْرَانِكَ يَا أَبَتَاهُ قَالَ: فَزَوَّجَاهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَزَوَّجَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابْنَتَهُ صَبِيَّةً، وَزَوَّجَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ صَغِيرَةً قَالَ: وَلَوْ كَانَ النِّكَاحُ لَا يَجُوزُ عَلَى الْبِكْرِ إِلَّا بِأَمْرِهَا لَمْ يَجُزْ أَنْ يُزَوِّجَ حَتَّى يَكُونَ لَهَا أَمْرٌ فِي نَفْسِهَا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف شادی کا پیغام بھیجا کہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی کر دو، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ ابھی چھوٹی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت والے دن تمام سبب اور نسب ختم ہو جائیں گے میرے نسب اور سبب کے علاوہ“ اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرا نسب اور سبب بھی نبی ﷺ سے ہو جائے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما سے کہا: ان کی شادی کر دو، تو دونوں نے کہا: وہ ایسی عورت ہیں کہ انہیں ان کے نفس کا اختیار دیا جائے گا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں کھڑے ہوئے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے انہیں کپڑے سے روکا اور کہا: اے ابا جان! آپ کی جدائی پر صبر محال ہے۔ راوی کہتا ہے کہ اس کی شادی کر دی گئی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13660
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»