❮
❯
حدیث نمبر: 13616
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، يُثْبِتُ إِسْرَائِيلَ فِي أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ يَجِيءُ بِهَا تَامَّةً، وَمَا فَاتَنِي مَا فَاتَنِي مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَتَّكِلُ عَلَيْهَا مِنْ قِبَلِ إِسْرَائِيلَ.
حافظ ثناء اللہ

محمد بن مثنیٰ کہتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمٰن بن مہدی کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ ابواسحاق کی سند میں اسرائیل کو صحیح مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا: وہ ان (روایات) کو مکمل بیان کرتے تھے، اور سفیان کی ابواسحاق سے جو احادیث مجھ سے رہ گئیں وہ صرف اس لیے رہ گئیں کہ میں اسرائیل کے ذریعے ان پر بھروسا کرتا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13616