السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا نكاح إلا بولي باب: اس فرمانِ نبوی ﷺ ”ولی (سرپرست) کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“ کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ فِي حَدِيثِ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ " الَّذِي يَرْوِيهِ ابْنُ جُرَيْجٍ، قُلْتُ لَهُ: ابْنُ عُلَيَّةَ يَقُولُ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَسَأَلْتُ عَنْهُ الزُّهْرِيَّ، فَقَالَ: لَسْتُ أَحْفَظُهُ، فَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: لَيْسَ يَقُولُ هَذَا إِلَّا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَإِنَّمَا⦗١٧١⦘ عَرَضَ ابْنُ عُلَيَّةَ كُتُبَ ابْنِ جُرَيْجٍ عَلَى عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ فَأَصْلَحَهَا، فَقُلْتُ لِيَحْيَى: مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ عَبْدَ الْمَجِيدِ هَكَذَا، فَقَالَ: كَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ بِحَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَلَكِنَّهُ لَمْ يَبْذُلْ نَفْسَهُ لِلْحَدِيثِ.عباس بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کو اس روایت کے متعلق کہتے ہوئے سنا «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» ”ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں“ جس کو ابن جریج رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ ابن علیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا: میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: مجھے یاد نہیں۔ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا: یہ بات صرف ابن علیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں۔ ابن علیہ رحمہ اللہ نے ابن جریج رحمہ اللہ کی کتابیں عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد پر پیش کیں تو انہوں نے ان کی اصلاح کی۔ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے کہا کہ میرا گمان نہیں تھا کہ عبدالمجید رحمہ اللہ ایسے ہیں، تو انہوں نے کہا: وہ عبدالمجید رحمہ اللہ ابن جریج رحمہ اللہ کی روایت کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو حدیث (کی روایت) کے لیے وقف نہیں کیا۔