السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا نكاح إلا بولي باب: اس فرمانِ نبوی ﷺ ”ولی (سرپرست) کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْمَوْلَى عِنْدَ كَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ هُوَ ابْنُ الْعَمِّ خَاصَّةً، وَلَيْسَ هُوَ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّهُ الْوَلِيُّ فَكُلُّ وَلِيٍّ لِلْإِنْسَانِ، فَهُوَ مَوْلَاهُ مِثْلُ الْأَبِ وَالْأَخِ، وَابْنِ الْأَخِ، وَالْعَمِّ، وَابْنِ الْعَمِّ، وَمَا وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْعَصَبَةِ كُلِّهِمْ وَمِنْهُ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي} [مريم: ٥] قَالَ: وَمِمَّا يُبَيِّنُ لَكَ أَنَّ الْمَوْلَى كُلُّ وَلِيٍّ فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلَاهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ " أَرَادَ بِالْمَوْلَى الْوَلِيَّ وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {يَوْمَ لَا يُغْنِي مَوْلًى عَنْ مَوْلًى شَيْئًا} [الدخان: ٤١]، أَفَتَرَى إِنَّمَا عُنِيَ ابْنُ الْعَمِّ خَاصَّةً دُونَ سَائِرِ أَهْلِ بَيْتِهِ ".ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کے نزدیک مولیٰ سے مراد خاص طور پر چچا زاد ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے، بلکہ مولیٰ سے مراد ولی ہے، چنانچہ انسان کا ہر ولی اس کا مولیٰ ہے، جیسے باپ، بھائی، بھتیجا، چچا، چچا زاد اور ان کے بعد کے تمام عصبہ رشتہ دار۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي﴾ ”اور میں اپنے بعد اپنے وارثوں (موالی) سے ڈرتا ہوں۔“ [سورة مريم: 5] فرمایا: اور جو بات تمہارے لیے واضح کرتی ہے کہ مولیٰ سے مراد ہر ولی ہے، وہ نبی ﷺ کی یہ حدیث ہے: ”جو عورت بھی اپنے مولیٰ کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔“ اس میں مولیٰ سے آپ ﷺ کی مراد ولی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَوْمَ لَا يُغْنِي مَوْلًى عَنْ مَوْلًى شَيْئًا﴾ ”جس دن کوئی مولیٰ کسی مولیٰ کے کچھ کام نہ آئے گا۔“ [سورة الدخان: 41] کیا تم سمجھتے ہو کہ اس سے صرف چچا زاد مراد ہے، گھر کے باقی افراد نہیں؟