السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب ما على الأولياء وإنكاح الآباء البكر بغير إذنها ووجه النكاح والرجل يتزوج أمته ويجعل عتقها صداقها وغير ذلك -- باب: قول الله تعالى: {وأنكحوا الأيامى منكم والصالحين من عبادكم وإمائكم} [النور: ٣٢] وأنه يحتمل أن يكون دلهم على ما فيه رشدهم بالنكاح باب: اولیاء کی ذمہ داریوں، باپوں کا کنواری بیٹی کا اس کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے، نکاح کے طریقے، اور آدمی کا اپنی لونڈی سے نکاح کر کے اس کی آزادی کو اس کا حق مہر مقرر کرنے اور اس کے علاوہ دیگر امور کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ”اور تم میں سے جو مرد یا عورتیں بے نکاح ہوں، اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو نیک ہوں، ان کا نکاح کر دو“ [النور: 32] اور اس بات کا بیان کہ اس میں یہ احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نکاح کے ذریعے اس راستے کی رہنمائی فرمائی ہو جس میں ان کی بھلائی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ، فَخُذُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَانْتَهُوا "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْأَمْرُ فِي مَعْنَى النَّهْيِ فَيَكُونَانِ لَازِمَيْنِ إِلَّا بِدَلَالَةِ أَنَّهُمَا غَيْرُ لَازِمَيْنِ، وَيَكُونُ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ " أَنْ يَقُولَ: عَلَيْهِمْ إِتْيَانُ الْأَمْرِ فِيمَا اسْتَطَاعُوا؛ لِأَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كُلِّفُوا مَا اسْتَطَاعُوا وَعَلَى أَهْلِ الْعِلْمِ طَلَبُ الدَّلَائِلِ لِيُفَرِّقُوا بَيْنَ الْحَتْمِ وَالْمُبَاحِ وَالْإِرْشَادِ الَّذِي لَيْسَ بِحَتْمٍ فِي الْأَمْرِ وَالنَّهْيِ مَعًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تک میں تم سے یکسو رہوں تم بھی مجھے چھوڑ دو (اور سوالات وغیرہ نہ کرو) کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں اپنے (غیر ضروری) سوالات اور انبیاء کے سامنے اختلاف کی وجہ سے تباہ ہوگئیں، جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو بجا لاؤ، جس حد تک تم میں طاقت ہو اور جب تمہیں کسی چیز سے روکوں تو تم اس سے بچو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بات کا احتمال ہے کہ امر، نہی کے معنی میں ہو تو دونوں لازم ہو جائیں، لیکن آپ ﷺ کے اس قول «فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ» ”پس تم اس میں سے جس کی تم استطاعت رکھتے ہو اسے بجا لاؤ“ سے وہ دونوں غیر لازم ہیں؛ تو امر کا حکم استطاعت کے مطابق ہے، چونکہ لوگ استطاعت کے مطابق مکلف ٹھہرائے جاتے ہیں۔