السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في قبلة الرجل ولده باب: آدمی کا اپنی اولاد کو بوسہ دینے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13578
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ كَلَامًا وَحَدِيثًا مِنْ فَاطِمَةَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ رَحَّبَ بِهَا، وَقَامَ إِلَيْهَا، فَأَخَذَ بِيَدِهَا، فَقَبَّلَهَا وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ، وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا، رَحَّبَتْ بِهِ وَقَامَتْ فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَقَبَّلَتْهُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر نہیں دیکھا کسی کو کہ وہ باتیں کرنے یا کلام میں نبی ﷺ کے مشابہ ہو۔ جب وہ آپ ﷺ کے پاس آتیں تو آپ ﷺ ان کو خوش آمدید کہتے اور کھڑے ہو جاتے، ان کے ہاتھ کو پکڑ لیتے، ان کو بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھا دیتے اور جب آپ ﷺ ان کے پاس جاتے تو وہ آپ ﷺ کو خوش آمدید کہتیں اور کھڑی ہو جاتیں، آپ ﷺ کے ہاتھ کو پکڑ لیتیں اور اس کو بوسہ دیتی تھیں۔