حدیث نمبر: 13502
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدِمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ: وَكَانَ أُمَّهَاتِي يُوَاظِبْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ، وَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً، فَكُنْتُ أَعْلَمُ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ، وَكَانَ أَوَّلُ مَا أُنْزِلَ فِيهِ أُنْزِلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِهَا، فَدَعَا الْقَوْمَ، فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ بَقِيَ رَهْطٌ مِنْهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالُوا الْمُكْثَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ لِكَيْ يَخْرُجُوا، فَمَشَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ثُمَّ ظَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَقُومُوا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ، فَظَنَّ أَنْ قَدْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ خَرَجُوا، فَضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْحِجَابَ، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں دس سال کا تھا جب آپ ﷺ مدینہ میں آئے اور میری ماں مجھے یہ نصیحت کرتی تھی کہ آپ ﷺ کی خدمت کروں۔ میں نے مدینہ میں آپ ﷺ کی دس سال خدمت کی اور جب آپ ﷺ فوت ہوئے تو میں بیس سال کا تھا اور میں لوگوں کی نسبت زیادہ جانتا ہوں کہ پردے کی آیت کب نازل ہوئی اور سب سے پہلے جو آیت نازل ہوئی وہ تب جب نبی ﷺ کی شادی زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہوئی۔ صبح آپ ﷺ نے اس حالت میں کی کہ آپ ان سے شادی کرنے والے تھے، آپ ﷺ نے لوگوں کو کھانے کے لیے بلایا۔ وہ کھانے کو آئے، پھر بعض چلے گئے، اور بعض کافی دیر ٹھہرے رہے۔ نبی ﷺ نکلے اور میں بھی آپ کے ساتھ نکلا تاکہ وہ لوگ بھی نکل پڑیں۔ نبی ﷺ چلے اور میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا، یہاں تک کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس پہنچے۔ پھر نبی ﷺ نے سمجھا کہ وہ چلے گئے ہوں گے، آپ ﷺ واپس آگئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ واپس آگیا یہاں تک کہ زینب رضی اللہ عنہا پر داخل ہوئے تو وہ لوگ ابھی تک بیٹھے تھے، وہ گئے نہیں تھے۔ پھر نبی ﷺ واپس آگئے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ واپس آگیا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس پہنچے۔ آپ ﷺ نے سمجھا کہ شاید وہ چلے گئے ہوں گے، آپ ﷺ لوٹ آئے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ لوٹ آیا اور وہ جا چکے تھے۔ آپ ﷺ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ کرلیا، تب پردے کی آیت نازل ہوئی۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13502
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 5166۔ مسلم 86»