❮
❯
حدیث نمبر: 1350
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ مَحْفُوظٍ الْفَقِيهُ الْجَنْزَرُودِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: رَأَيْتُ مُسْلِمَ بْنَ الْحَجَّاجِ ضَعَّفَ هَذَا الْخَبَرَ وَقَالَ أَبُو قَيْسٍ الْأَوْدِيُّ وَهُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلَ: لَا يَحْتَمِلَانِ هَذَا مَعَ مُخَالَفَتِهِمَا الْأَجِلَّةُ الَّذِينَ رَوَوْا هَذَا الْخَبَرَ عَنِ الْمُغِيرَةِ ⦗٤٢٦⦘ فَقَالُوا: مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَقَالَ: لَا نَتْرُكُ ظَاهِرَ الْقُرْآنِ بِمِثْلِ أَبِي قَيْسٍ وَهُزَيْلٍ فَذَكَرْتُ هَذِهِ الْحِكَايَةَ عَنْ مُسْلِمٍ لِأَبِي الْعَبَّاسِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيِّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ عَلِيُّ بْنُ شَيْبَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قُدَامَةَ السَّرَخْسِيَّ يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قُلْتُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ: لَوْ حَدَّثْتَنِي بِحَدِيثِ أَبِي قَيْسٍ عَنْ هُزَيْلٍ مَا قَبِلْتُهُ مِنْكَ فَقَالَ سُفْيَانُ: الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ أَوْ وَاهٍ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ يَقُولُ: حَدَّثْتُ أَبِي بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ أَبِي: لَيْسَ يُرْوَى هَذَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ أَبِي: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ كَانَ يُحَدِّثُ بِهِ يَقُولُ: هُوَ مُنْكَرٌ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ فِي الْمَسْحِ رَوَاهُ عَنِ الْمُغِيرَةَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ وَأَهْلُ الْبَصْرَةِ وَرَوَاهُ هُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلَ عَنِ الْمُغِيرَةِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَخَالَفَ النَّاسَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا زَكَرِيَّا يَعْنِي يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: النَّاسُ كُلُّهُمْ يَرْوُونَهُ عَلَى الْخُفَّيْنِ غَيْرَ أَبِي قَيْسٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ لَا يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثِ لِأَنَّ الْمَعْرُوفَ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ بِالْمُتَّصِلِ وَلَا بِالْقَوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

ابو عاصم نے اس کو اسی طرح ہی بیان کیا ہے۔
ابو محمد (یحییٰ بن منصور) کہتے ہیں: میں نے امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا اور کہا: ابو قیس اودی اور ہزیل بن شرحبیل اس روایت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، جبکہ انہوں نے ان جلیل القدر راویوں کی مخالفت کی ہے جنہوں نے یہ روایت سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی اور کہا: آپ ﷺ نے موزوں پر مسح کیا۔ اور انہوں نے کہا: ہم ابو قیس اور ہزیل جیسے راویوں کی وجہ سے قرآن کے ظاہر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے کہا: اگر آپ مجھے ابو قیس کی ہزیل سے حدیث بیان کریں تو میں اسے آپ سے قبول نہیں کروں گا۔ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: یہ حدیث ضعیف ہے یا واہی ہے، یا اسی طرح کا کوئی لفظ کہا۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: یہ روایت صرف ابو قیس کی حدیث سے ہی بیان کی جاتی ہے، اور عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ اسے بیان کرتے تو کہتے: یہ منکر ہے۔ علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی مسح والی حدیث ان سے اہلِ مدینہ، اہلِ کوفہ اور اہلِ بصرہ نے روایت کی ہے، اور ہزیل بن شرحبیل نے بھی اسے مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے مگر انہوں نے کہا: اور آپ ﷺ نے جرابوں پر مسح کیا، اور یوں لوگوں کی مخالفت کی۔ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابو قیس کے علاوہ سب لوگ اسے موزوں پر مسح کے الفاظ سے روایت کرتے ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ یہ حدیث بیان نہیں کرتے تھے، کیونکہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی جو روایت معروف ہے وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے موزوں پر مسح کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی نبی ﷺ سے مروی ہے، لیکن وہ نہ متصل ہے اور نہ قوی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1350
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»