❮
❯
حدیث نمبر: 13484
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، مِنْ أَصْلِهِ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، ثنا مُجَاهِدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ، وَإِنْ كُنْتُ لَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ مِنْهُ فَمَرَّ بِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي، فَمَرَّ بِي وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي عُمَرُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي، فَمَرَّ بِي وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآنِي وَعَرَفَ مَا فِي نَفْسِي، وَمَا فِي وَجْهِي، ثُمَّ قَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " الْحَقْ" وَمَضَى، فَاتَّبَعْتُهُ، فَدَخَلَ فَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ، فَوَجَدْتُ لَبَنًا فِي قَدَحٍ، فَقَالَ: " مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟ " قَالُوا: أَهْدَاهُ لَكَ فُلَانٌ أَوْ فُلَانَةُ قَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ"، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " الْحَقْ إِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ لِي" قَالَ: وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ إِلَى أَهْلٍ، وَلَا مَالٍ، إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِمْ، وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا، وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ، فَأَصَابَ مِنْهَا وَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا، فَسَاءَنِي ذَلِكَ قُلْتُ: وَمَا هَذَا اللَّبَنُ فِي أَهْلِ الصُّفَّةِ؟ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِيبَ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ شَرْبَةً أَتَقَوَّى بِهَا وَأَنَا الرَّسُولُ، فَإِذَا جَاءُوا أَمَرَنِي أَنْ أُعْطِيَهُمْ، وَمَا عَسَى أَنْ يَبْلُغَنِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ بُدٌّ، فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ، فَأَقْبَلُوا حَتَّى اسْتَأْذَنُوا فَأُذِنَ لَهُمْ وَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " خُذْ فَأَعْطِهِمْ"، فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ، فَجَعَلْتُ أُعْطِيهِ الرَّجُلَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرِدُ عَلَى الْقَدَحِ فَأُعْطِيهِ الْآخَرَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرِدُ عَلَى الْقَدَحِ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوِيَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ، فَأَخَذَ الْقَدَحَ، فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ وَنَظَرَ إِلِيَّ وَتَبَسَّمَ وَقَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " بَقِيتُ أَنَا وَأَنْتَ"، قُلْتُ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " اقْعُدْ فَاشْرَبْ"، فَقَعَدْتُ، فَشَرِبْتُ، فَقَالَ: " اشْرَبْ"، فَشَرِبْتُ، ثُمَّ قَالَ: " اشْرَبْ" فَشَرِبْتُ، فَمَا زَالَ يَقُولُ: " اشْرَبْ"، فَأَشْرَبُ حَتَّى قُلْتُ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا قَالَ: " فَادْنُ"، فَأَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ، فَحَمِدَ اللهَ وَسَمَّى وَشَرِبَ الْفَضْلَةَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَالْمَوْضِعُ الْمَقْصُودُ مِنْ هَذَا الْخَبَرِ فِي هَذَا الْبَابِ قَوْلُهُ: وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ إِلَى أَهْلٍ وَلَا مَالٍ.
حافظ ثناء اللہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! میں بھوک کی وجہ سے اپنا پیٹ زمین سے لگا دیتا تھا اور بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا، ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا جہاں سے لوگ نکل رہے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے۔ میں نے اللہ کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا تاکہ وہ مجھے کچھ دیں تو وہ گزر گئے اور انہوں نے کچھ بھی نہ کہا۔ عمر رضی اللہ عنہ گزرے، میں نے ان سے سوال کیا وہ بھی گزر گئے اور کچھ نہ دیا۔ پھر نبی ﷺ گزرے تو آپ ﷺ مسکرائے جب مجھے دیکھا اور فرمایا: ”آؤ۔“ میں آپ ﷺ کے ساتھ چلا گیا، آپ ﷺ داخل ہوئے میں نے بھی اجازت طلب کی اور اجازت مل گئی۔ میں نے دودھ کا ایک پیالہ پایا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ پیالہ کہاں سے آیا ہے؟“ جواب ملا کہ فلاں مرد یا عورت نے تحفہ بھیجا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! جاؤ اہل صفہ کو بلا کر لاؤ۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے، ان کا نہ کوئی گھر تھا اور نہ مال۔ جب بھی آپ ﷺ کے پاس صدقہ آتا تو آپ ﷺ اسے ان کی طرف بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہ لیتے، اور جب ہدیہ آتا تو ان کی طرف پیغام بھیجتے، خود بھی اس میں سے لیتے اور ان کو بھی شریک کرتے۔ یہ بات مجھ پر گراں گزری، یہ ایک پیالہ ہے، مجھے تو اس میں سے صرف ایک گھونٹ ملے گا۔ میں ان کو بلا کر لے آیا، جب وہ آ گئے تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان میں سے ہر ایک کو دودھ پیش کروں۔ مجھے یہ لگتا تھا کہ مجھے نہیں ملے گا لیکن اللہ اور رسول ﷺ کا حکم ماننا بھی ضروری تھا، جب وہ آئے انہوں نے اجازت طلب کی، اجازت دے دی گئی اور وہ آپ ﷺ کے گھر میں مجلس بنا کر بیٹھ گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: حاضر اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”پکڑو اور ان کو دو۔“ میں نے پیالہ پکڑا اور آدمی کو دے دیا، اس نے پیا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گیا، پھر میں نے دوسرے کو پیالہ دیا وہ بھی سیر ہو گیا۔ پھر میں پیالہ لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا، تمام لوگ سیر ہو چکے تھے، آپ ﷺ نے پیالہ پکڑا، اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگے اور فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: حاضر اے اللہ کے رسول ﷺ! فرمایا: ”میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: آپ ﷺ نے سچ فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ اور پینا شروع کرو۔“ فرماتے ہیں کہ میں بیٹھ گیا اور پینا شروع کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور پیو۔“ میں نے پیا۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”اور پیو۔“ میں پیتا گیا یہاں تک کہ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! جس نے آپ ﷺ کو حق دے کر بھیجا ہے، میں اس کی مزید جگہ نہیں پاتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو قریب آ جاؤ۔“ میں نے آپ ﷺ کو پیالہ دے دیا۔ آپ ﷺ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی اور بچا ہوا دودھ پی لیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13484
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 5375»