السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: النهي عن التبتل، والإخصاء باب: تبتل اور خصی ہونے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 13465
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي رَجُلٌ شَابٌّ، وَإِنِّي أَخَافُ عَلَى نَفْسِي الْعَنَتَ وَلَا أَجِدُ مَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَأْذَنْ لِي أَنْ أَخْتَصِيَ قَالَ: فَسَكَتَ عَنِّي، ثُمَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَسَكَتَ عَنِّي، ثُمَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَدْ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ فَاخْتَصِ عَلَى ذَلِكَ أَوْ دَعْ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ أَصْبَغُ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ فَذَكَرَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نوجوان آدمی ہوں اور میں برائی کا خوف محسوس کرتا ہوں اور نہ ہی میں کوئی عورت پاتا ہوں، جس سے نکاح کروں، تو کیا آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیتے ہیں؟“ آپ ﷺ تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر میں نے یہی بات دہرائی، آپ ﷺ پھر خاموش رہے، پھر میں نے عرض کی، آپ ﷺ پھر خاموش رہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! تحقیق صحیفے خشک ہو چکے ہیں، جو کچھ ہونے والا ہے وہ ہو کر رہے گا، چاہے خصی ہو یا نہ ہو۔“ [صحیح۔ مسلم ٥٠٧٦]