حدیث نمبر: 13427
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيَّ، يَقُولُ: قَالَ لِي ⦗١١٦⦘ خَالِي حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ: يَا بُنِيَّ تَدْرِي لِمَ سُمِّيَ عُثْمَانُ ذَا النُّورَيْنِ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي قَالَ: لَمْ يَجْمَعِ اللهُ بَيْنَ ابْنَتَيْ نَبِيٍّ مُنْذُ خَلَقَ اللهُ آدَمَ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ لِغَيْرِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلِذَلِكَ سُمِّيَ ذَا النُّورَيْنِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَأَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ تَزَوَّجَتْ يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ زَمْعَةَ، وَأَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ تَزَوَّجَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، وَأَنَّ طَلْحَةَ تَزَوَّجَ ابْنَتَهُ الْأُخْرَى، وَهُمَا أُخْتَا أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ تَزَوَّجَ بِنْتَ جَحْشٍ وَهِيَ أُخْتُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ زَيْنَبَ يَعْنِي ابْنَةَ جَحْشٍ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ، وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي الْأَحَادِيثِ وَفِي كُلِّ ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِرْنَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَمْ تَصِرْ بَنَاتُهُنَّ أَخَوَاتِهِمْ، وَلَا أَخَوَاتُهُنَّ خَالِاتِهِمْ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

صالح بن محمد بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر بن ابان جعفی کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے ماموں حسین جعفی نے مجھ سے پوچھا: اے بیٹے! کیا تجھے معلوم ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام «ذُو النُّورَيْنِ» ”دو نوروں والا“ کیوں ہے؟ میں نے نفی میں جواب دیا تو انہوں نے کہا کہ زمین و آسمان کی پیدائش سے لے کر قیامت تک سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے کسی کے لیے کسی نبی کی دو بیٹیاں اکٹھی نہیں کیں، اسی لیے ان کا نام «ذُو النُّورَيْنِ» ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہما سے شادی کی، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے شادی کی اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کی دوسری بیٹی سے شادی کی اور وہ دونوں ام المومنین کی بہنیں ہیں، اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جحش کی بیٹی سے شادی کی اور وہ بھی ام المومنین کی بہن ہیں۔ ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ ﴿وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6] ”نبی ﷺ کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں“، ان ماؤں کی بیٹیاں ان کی بہنیں نہیں ہوں گی اور نہ ان کی بہنیں ان کی خالائیں بنیں گی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13427
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»