السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الأنساب كلها منقطعة يوم القيامة إلا نسبه باب: قیامت کے دن آپ ﷺ کے نسب کے سوا تمام نسب منقطع ہو جائیں گے
حدیث نمبر: 13394
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ، أنبأ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ حَسَنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُمَّ كُلْثُومٍ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّهَا تَصْغُرُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي " فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ لِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَبٌ وَنَسَبٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِحَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ زَوِّجَا عَمَّكُمَا، فَقَالَا: هِيَ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ تَخْتَارُ لِنَفْسِهَا، فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُغْضَبًا فَأَمْسَكَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِثَوْبِهِ وَقَالَ: لَا صَبْرَ عَلَى هُجْرَانِكَ يَا أَبَتَاهُ قَالَ: فَزَوَّجَاهُ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے فرماتے ہوئے سنا کہ ”ہر سبب اور نسب قیامت والے دن ختم کر دیا جائے گا علاوہ میرے سبب اور نسب کے“ تو میں نے پسند کیا کہ میرے لیے آپ ﷺ کا نسب بھی ہو اور سبب بھی ہو، تو علی رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے فرمایا: اپنے چچا کی شادی کر دو۔ وہ کہنے لگے: وہ ایک خود مختار عورت ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ غصے میں کھڑے ہوئے تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کیا: اے ابا جان! آپ کی جدائیگی پر صبر و تحمل نہیں ہے۔ پھر انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کا نکاح کر دیا۔