السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما يستدل به على أنه جعل سبه للمسلمين رحمة وفي ذلك كالدليل على أنه له مباح باب: اس بات پر استدلال کا بیان کہ آپ ﷺ کا مسلمانوں کو برا بھلا کہنا ان کے لیے رحمت بنا دیا گیا، اور اس میں گویا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ آپ کے لیے مباح تھا
حدیث نمبر: 13383
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَأَغْلَظَ لَهُمَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَنْ أَصَابَ مِنْكَ خَيْرًا، مَا أَصَابَ مِنْكَ هَذَانِ خَيْرًا، فَقَالَ: " أَوَ مَا عَلِمْتِ مَا عَاهَدْتُ عَلَيْهِ رَبِّي؟ " قُلْتُ: وَمَا عَاهَدْتَ عَلَيْهِ رَبَّكَ؟ قَالَ: " قُلْتُ اللهُمَّ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ مَغْفِرَةً وَعَافِيَةً "، وَهَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس دو بندے داخل ہوئے، آپ ﷺ ان پر ناراض ہوئے تو سب نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہر شخص کو آپ سے خیر ملتی ہے اور ان دونوں کو آپ کی جانب سے بھلائی نہیں ملی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نہیں جانتی کہ میں نے اپنے رب سے کیا وعدہ کیا ہے؟“ تو میں نے کہا: کیا وعدہ کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے کہا: اے اللہ! جو بھی مومن ہو اور میں اس کو گالی دوں یا لعنت کروں تو اس کے عوض اس کو معاف کر دینا اور اس کو عافیت دینا اور ایسے ایسے دینا۔“