السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لم يكن له أن يتعلم شعرا ولا يكتب باب: جائز نہیں تھا کہ آپ شعر سیکھیں یا لکھیں
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نُعَيْمٍ وَكِيلُ الْمُتَّقِي بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ هِلَالٍ النَّحْوِيُّ الضَّرِيرُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " مَا جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ شِعْرٍ قَطُّ، إِلَّا بَيْتًا وَاحِدًا: ⦗٦٩⦘ تَفَاءَلْ بِمَا تَهْوَى يَكُنْ فَلَقَلَّمَا يُقَالُ لِشَيْءٍ كَانَ إِلَّا تَحَقَّقَ. قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَلَمْ يَقُلْ: تَحَقُّقَا؛ لِئَلَّا يُعْرِبَهُ، فَيَصِيرَ شِعْرًا " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ أَكْتُبْهُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِيهِمْ مَنْ يُجْهَلُ حَالُهُ، وَأَمَّا الرَّجَزُ فَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی شعر کا کوئی ایک بیت بھی (وزن کے ساتھ) جوڑ کر نہیں پڑھا، سوائے ایک بیت کے: «تَفَاءَلْ بِمَا تَهْوَى يَكُنْ فَلَقَلَّمَا يُقَالُ لِشَيْءٍ كَانَ إِلَّا تَحَقَّقَ» ”جو تم چاہتے ہو اس کی نیک فال لو، وہ ہو جائے گا، کیونکہ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی چیز کے بارے میں کہا جائے کہ ہو گئی اور وہ واقع نہ ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: آپ ﷺ نے «تَحَقُّقَا» نہیں کہا تاکہ اسے (شعر کے) اعراب کے ساتھ نہ پڑھیں اور وہ شعر نہ بن جائے۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اسے صرف اسی سند سے لکھا ہے اور اس کے راویوں میں ایسا راوی بھی ہے جس کا حال معلوم نہیں۔ رہا رجز، تو رسول اللہ ﷺ اسے پڑھا کرتے تھے۔