السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لم يكن له أن يتعلم شعرا ولا يكتب باب: جائز نہیں تھا کہ آپ شعر سیکھیں یا لکھیں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْخَثْعَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ثنا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ بْنَ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَعْتَمِرَ أَرْسَلَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَسْتَأْذِنُهُمْ لِيَدْخُلَ مَكَّةَ، فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهِ أَنْ لَا يُقِيمَ بِهَا، إِلَّا ثَلَاثَ لَيَالٍ، وَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ، وَلَا يَدْعُو مِنْهُمْ أَحَدًا قَالَ: فَأَخَذَ يَكْتُبُ الشَّرْطَ بَيْنَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ: هَذَا مَا قَاضَى ⦗٦٨⦘ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ، فَقَالُوا: لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ لَمْ نَمْنَعْكَ وَلَبَايَعْنَاكَ وَلَكِنِ اكْتُبْ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: " أَنَا وَاللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَأَنَا وَاللهِ رَسُولُ اللهِ " قَالَ: وَكَانَ لَا يَكْتُبُ قَالَ: فَقَالَ لِعَلِيٍّ: " امْحُ رَسُولَ اللهِ " قَالَ عَلِيٌّ: لَا وَاللهِ لَا أَمْحَاهُ أَبَدًا قَالَ: " فَأَرِنِيهِ " قَالَ: فَأَرَاهُ إِيَّاهُ فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَلَمَّا دَخَلَ وَمَضَى الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: مُرْ صَاحِبَكَ فَلْيَرْتَحِلْ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عَلِيٌّ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَعَمْ أَرْتَحِلُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ الْأَوْدِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بِمَعْنَاهُ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ.حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے عمرے کا ارادہ کیا تو اہل مکہ کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے مکہ میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی، تو انہوں نے آپ ﷺ پر شرط لگائی کہ آپ وہاں تین راتوں سے زیادہ قیام نہیں کریں گے اور ہتھیار غلافوں میں رکھ کر ہی داخل ہوں گے اور ان میں سے کسی کو (ساتھ چلنے کی) دعوت نہیں دیں گے، تو وہ شرطیں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ لکھ رہے تھے کہ یہ فیصلہ وہ ہے جو محمد ﷺ نے کیا جو اللہ کے رسول ہیں، تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم جانتے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو منع بھی نہ کرتے اور آپ کی بیعت بھی کر لیتے، تم محمد بن عبداللہ لکھو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں محمد بن عبداللہ بھی ہوں اور اللہ کی قسم! میں محمد رسول اللہ بھی ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ لکھنا نہیں جانتے تھے۔ آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”رسول اللہ مٹا دو۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں کبھی نہیں مٹاؤں گا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے دکھاؤ۔“ انہوں نے آپ ﷺ کو وہ جگہ دکھائی تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس کو مٹا دیا۔
جب مکہ میں داخل ہوئے اور مدت پوری ہو گئی تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ اپنے ساتھی کو حکم دو کہ وہ چلے جائیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بالکل، ہم چلے جاتے ہیں۔“