السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: ما جاء في موضع الوسم وفي صفة الوسم باب: داغنے کی جگہ اور داغنے کی کیفیت کے متعلق جو مروی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثنا عَوْنُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ قُرَيْعٍ، أَخْبَرَنِي غَيْلَانُ بْنُ جُنَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ جُنَادَةَ بْنِ جَرَادٍ، أَحَدِ بَنِي غَيْلَانَ بْنِ جَاوَةَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِبِلٍ قَدْ وَسَمْتُهَا فِي أَنْفِهَا، فَقَالَ: " يَا جُنَادَةُ أَمَا وَجَدْتَ عَظْمًا تَسِمُهَا فِيهِ، إِلَّا الْوَجْهَ أَمَا إِنَّ أَمَامَكَ الْقِصَاصَ " قَالَ: أَمْرُهَا إِلَيْكَ قَالَ: " ائْتِنِي بِشَيْءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ ⦗٥٧⦘ وَسْمٌ "، فَأَتَيْتُهُ بِابْنِ لَبُونٍ، وَابْنَةِ لَبُونٍ وَحِقَّةٍ، فَقَالَ: " أَتَبِيعُنِي نَارَهَا أَشْتَرِي نَارَهَا بِصَدَقَتِهَا؟ " قَالَ: أَمْرُهَا إِلَيْكَ، فَوَضَعْتُ الْمِيسَمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَخِّرْ "، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ: " أَخِّرْ أَخِّرْ " حَتَّى بَلَغْتُ الْفَخِذَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِمْ عَلَى بَرَكَةٍ " قَالَ: فَوَسَمْتُهَا فِي أَفْخَاذِهَا وَكَانَتْ صَدَقَتُهَا حِقَّتَانِ فَكَانَتْ تِسْعِينَ ".سیدنا جنادہ بن جراد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس اونٹ لے کر آیا اور میں نے اس کی ناک پر داغا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے جنادہ! تجھے چہرے کے علاوہ کوئی اور عضو نہیں ملا جس کو تو داغتا؟ تیرے آگے حساب کتاب ہے۔“ انہوں نے کہا: معاملہ آپ ﷺ کے سپرد ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور کوئی لے کر آ جس پر کوئی نشان نہ ہو۔“ میں آپ ﷺ کے پاس ایک ابن لبون، بنت لبون اور حقہ لے کر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو مجھے یہ خوش رنگ اونٹنی بیچے گا؟ میں اسے صدقے کے مال سے خرید لوں گا۔“ انہوں نے کہا: معاملہ آپ کے سپرد ہے، میں نے داغنے کا آلہ پکڑا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پیچھے کر۔“ اور آپ ﷺ مسلسل کہتے رہے: ”اور پیچھے، اور پیچھے“، یہاں تک کہ میں ران تک پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”برکت والی جگہ پر داغ۔“ تو میں نے اس کی رانوں پر داغا، اس کا صدقہ دو حقے تھے اور وہ نوے تھے۔