السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: ما جاء في موضع الوسم وفي صفة الوسم باب: داغنے کی جگہ اور داغنے کی کیفیت کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13259
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ يُدَخِّنُ مَنْخِرَاهُ فَقَالَ: " لَعَنَ اللهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا أَلَمْ أَنْهَ أَنَّهُ لَا يَسِمُ أَحَدٌ الْوَجْهَ وَلَا يَضْرِبُ أَحَدٌ الْوَجْهَ؟ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک گدھے کو دیکھا جس کے چہرے پر داغا گیا تھا اور اس کے نتھنے جلائے گئے تھے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس پر لعنت کرے جس نے یہ کام کیا ہے، کیا میں نے اس سے منع نہیں کیا تھا کہ کوئی چہرے پر نہ داغے اور نہ چہرے پر مارے؟“