حدیث نمبر: 13238
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أَبُو حَيَّانَ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَهُ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ، أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ، فَتَمَسَّكُوا بِكِتَابِ اللهِ وَخُذُوا بِهِ "، فَحَثَّ عَلَيْهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي " قَالَ حُصَيْنٌ لِزَيْدٍ: وَمِنْ أَهِلِ بَيْتِهِ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهِلِ بَيْتِهِ قَالَ: بَلَى إِنَّ نِسَاءَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَكِنَّ أَهْلَ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ قَالَ: وَمَنْ هُمْ قَالَ: آلُ عَلِيٍّ، وَآلُ عُقَيْلٍ، وَآلُ جَعْفَرٍ، وَآلُ عَبَّاسٍ قَالَ: كُلُّ هَؤُلَاءِ تَحْرُمُ عَلَيْهِمُ الصَّدَقَةُ قَالَ: نَعَمْ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ، وَهَكَذَا بَنُو أَعَمَامِهِمْ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، بِدَلِيلِ مَا نَذْكُرُهُ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِيهِ، ⦗٤٩⦘ وَهَكَذَا بَنُو الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، بِدَلِيلِ مَا رَوَيْنَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّمَا بَنُو الْمُطَّلِبِ، وَبَنُو هَاشِمٍ شَيْءٌ وَاحِدٌ " وَأَعْطَاهُمْ مِنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى.
حافظ ثناء اللہ

(الف) سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک دن کھڑے ہوئے خطبہ دینے لگے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”میں تم میں سے ایک انسان ہوں اور قریب ہے کہ اللہ کا فرشتہ میرے پاس آئے اور میں اس کی بات کو قبول کرلوں (یعنی موت)، میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک اللہ کی کتاب جس میں نور اور ہدایت ہے، تم اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا۔“ پھر اس پر ابھارا اور رغبت دلائی، پھر فرمایا: ”اور میرے اہل بیت، میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ سے ڈراتا ہوں۔“ حصین نے زید سے کہا: آپ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ کی بیویاں اہل میں سے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: بیشک آپ کی بیویاں اہل بیت میں سے ہیں، لیکن آپ کے بعد جن پر صدقہ حرام ہے۔ پوچھا: وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: آلِ علی اور آلِ جعفر اور آلِ عباس۔ پوچھا: کیا ان تمام پر صدقہ حرام ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔
(ب) سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بنو مطلب اور بنو ہاشم ایک ہی ہیں“ اور انہیں قرابت داروں کے حصہ سے دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13238
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»