السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: الرجل يقسم صدقته على قرابته وجيرانه، إذا كانوا من أهل السهمان لما جاء في صلة الرحم وحق الجار باب: آدمی کا اپنا صدقہ اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں پر تقسیم کرنا، جب وہ صدقہ کے حقداروں میں سے ہوں تاکہ صلہ رحمی اور پڑوسی کے حق کے متعلق وارد ہونے والے احکام پر عمل ہو
حدیث نمبر: 13226
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَبِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ؟ قَالَ: " بِأَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”اے اللہ کے نبی! میری دو پڑوسنیں ہیں، میں حسن سلوک کی ابتدا کس سے کروں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تیرے دروازے کے زیادہ قریب ہو۔“