السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: الرجل يقسم صدقته على قرابته وجيرانه، إذا كانوا من أهل السهمان لما جاء في صلة الرحم وحق الجار باب: آدمی کا اپنا صدقہ اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں پر تقسیم کرنا، جب وہ صدقہ کے حقداروں میں سے ہوں تاکہ صلہ رحمی اور پڑوسی کے حق کے متعلق وارد ہونے والے احکام پر عمل ہو
حدیث نمبر: 13224
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا زَالَ جِبْرَائِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل مجھے ہمیشہ یہ وصیت کرتے رہے کہ پڑوس کے ساتھ اچھا سلوک کرو، یہاں تک کہ میں نے یہ سمجھ لیا کہ کہیں اس کو وارث بھی نہ بنا دیا جائے۔“