السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: الرجل يقسم صدقته على قرابته وجيرانه، إذا كانوا من أهل السهمان لما جاء في صلة الرحم وحق الجار باب: آدمی کا اپنا صدقہ اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں پر تقسیم کرنا، جب وہ صدقہ کے حقداروں میں سے ہوں تاکہ صلہ رحمی اور پڑوسی کے حق کے متعلق وارد ہونے والے احکام پر عمل ہو
حدیث نمبر: 13220
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فِطْرٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الرَّحِمَ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، وَلَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِي، وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”صلہ رحمی رحمان کے عرش کے ساتھ معلق ہے، اور بدلہ دینے والا (اصل) صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے تعلق توڑا جائے تو وہ تعلق جوڑے۔“