السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: الرجل يقسم صدقته على قرابته وجيرانه، إذا كانوا من أهل السهمان لما جاء في صلة الرحم وحق الجار باب: آدمی کا اپنا صدقہ اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں پر تقسیم کرنا، جب وہ صدقہ کے حقداروں میں سے ہوں تاکہ صلہ رحمی اور پڑوسی کے حق کے متعلق وارد ہونے والے احکام پر عمل ہو
حدیث نمبر: 13216
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَادَ أَبَا الرَّدَّادِ، فَقَالَ: خَيْرُهُمْ وَأَوْصَلُهُمْ أَبُو مُحَمَّدٍ مَا عَلِمْتُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا اللهُ وَأَنَا الرَّحْمَنُ خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنَ اسْمِي، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ابو الرداد کی عیادت کی تو انہوں نے کہا: میرے علم کے مطابق ان میں سب سے بہتر اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ابو محمد (عبدالرحمن) ہیں۔ تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”میں اللہ ہوں اور میں رحمان ہوں، میں نے «الرَّحِمَ» (صلہ رحمی) کو پیدا کیا اور اس کا نام اپنے نام سے نکالا، جو اس کو ملائے گا میں اس کو ملاؤں گا، اور جو اس کو کاٹے گا میں اس کو کاٹ دوں گا۔“