❮
❯
حدیث نمبر: 13210
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: اسْتُشْهِدَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ مَالِكُ بْنُ سِنَانٍ وَتَرَكَنَا بِغَيْرِ مَالٍ قَالَ: وَأَصَابَتْنَا حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي: يَا بُنِيَّ ائْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ لَنَا شَيْئًا، فَجِئْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَجَلَسْتُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ جَالِسٌ، فَقَالَ حِينَ اسْتَقْبَلَنِي: " إِنَّهُ مَنْ يَسْتَغْنِ أَغْنَاهُ اللهُ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ أَعَفَّهُ اللهُ، وَمَنِ اسْتَكْفَ كَفَّهُ " قَالَ: قُلْتُ: مَا يُرِيدُ غَيْرِي، فَانْصَرَفْتُ وَلَمْ أُكَلِّمْهُ فِي شَيْءٍ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي: مَا فَعَلْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهَا الْخَبَرَ قَالَ فَصَبَرْنَا وَاللهُ يَرْزُقُنَا شَيْئًا فَتَبَلَّغْنَا بِهِ حَتَّى أَلَحَّتْ عَلَيْنَا حَاجَةٌ هِيَ أَشَدُّ مِنْهَا فَقَالَتْ ⦗٣٩⦘ لِي أُمِّي: ائْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلْهُ لَنَا شَيْئًا قَالَ: فَجِئْتُهُ وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَسَلَّمْتُ وَجَلَسْتُ فَاسْتَقْبَلَنِي، وَقَالَ بِالْقَوْلِ الْأَوَّلِ وَزَادَ فِيهِ " وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ فَهُوَ مُلْحِفٌ "، قُلْتُ فِي نَفْسِي: لَنَا الْيَاقُوتَةُ وَهِيَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ قَالَ: وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا قَالَ: فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ قَالَ أَنْبَأَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْيَاقُوتَةُ نَاقَةٌ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد مالک بن سنان جنگِ احد میں شہید ہو گئے اور ہمارے لیے کوئی ترکہ نہ چھوڑا، ہم سخت ضرورت مند ہو گئے تو میری ماں نے مجھ سے کہا: اے بیٹے! رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے کچھ مانگ لاؤ، میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور سلام کیا اور بیٹھ گیا، آپ ﷺ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں بیٹھے ہوئے تھے، پھر میری جانب متوجہ ہو کر فرمایا: ”جو بے پروا ہو گیا اللہ تعالیٰ اس کو بے پروا کر دے گا، جو پاک دامن رہا اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے گا اور جو کفایت چاہے اللہ تعالیٰ اسے کفایت دے گا“، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سوچا آپ ﷺ کی مراد میں ہوں، میں واپس آ گیا اور کوئی بات نہ کی، میری ماں نے پوچھا تو میں نے ساری خبر دے دی، ہم نے صبر کیا، اللہ تعالیٰ ہمیں کچھ رزق دیتا رہا جس سے ہم گزارا کرتے رہے، یہاں تک کہ ہمیں پہلے سے بھی زیادہ سخت ضرورت نے آ گھیرا، میری ماں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ لینے کے لیے بھیجا، میں آیا، آپ ﷺ صحابہ رضی اللہ عنہم کی مجلس میں تھے، میں نے سلام کیا اور بیٹھ گیا، آپ میری طرف متوجہ ہوئے اور پہلے والی بات کی جس میں یہ الفاظ زیادہ تھے کہ: ”جس بندے نے سوال کیا حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ ہے تو وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے (یعنی چمٹنے والا ہے)“، میں نے اپنے دل میں سوچا، میرے پاس یاقوت ہے وہ «أُوقِيَّة» ”اوقیہ“ سے زیادہ ہے، اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، میں واپس آ گیا اور آپ ﷺ سے سوال نہیں کیا، ابوعبید کہتے ہیں: یاقوت اونٹنی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13210
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ احمد 11059»