السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: سهم الرقاب باب: گردنیں (غلام) آزاد کرانے کے حصے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الدَّانَاجِ، أَنَّ فُلَانًا الْحَنَفِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ: شَهِدْتُ يَوْمَ جُمُعَةٍ، فَقَامَ مُكَاتَبٌ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَ أَوَّلَ سَائِلٍ رَأَيْتُهُ، فَقَالَ: " إِنِّي إِنْسَانٌ مُثْقَلٌ مُكَاتَبٌ، فَحَثَّ النَّاسَ عَلَيْهِ، فَقُذِفَتْ إِلَيْهِ الثِّيَابُ وَالدَّرَاهِمُ، حَتَّى قَالَ: حَسْبِي، فَانْطَلَقَ إِلَى أَهْلِهِ، فَوَجَدَهُمْ قَدْ أَعْطَوْهُ مُكَاتَبَتَهُ وَفَضَلَ ثَلَاثُمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَأَتَى أَبَا مُوسَى فَسَأَلَهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْعَلَهَا فِي نَحْوِهِ مِنَ النَّاسِ وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِصَّةً شَبِيهَةً بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: فَأَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنِ الْفَضْلَةِ، فَقَالَ: " اجْعَلْهَا فِي الْمُكَاتَبِينَ، وَهِيَ مُخَرَّجَةٌ فِي كِتَابِ الْمُكَاتَبِ ".راوی کہتا ہے کہ میں جمعہ کے دن گیا، ایک مکاتب سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ راوی کہتا ہے کہ یہ پہلا سائل تھا جس کو میں نے دیکھا تھا، اس نے کہا: میں تنگدست مکاتب انسان ہوں۔ انہوں نے لوگوں کو ترغیب دلائی اور اس کی مدد کی۔ پھر اس کی مدد کے لیے کپڑے اور درہم دیے جانے لگے، یہاں تک کہ اس نے کہا: بس یہی کافی ہیں، تو وہ اپنے اہل کے پاس گیا تو انہوں نے اس کی مکاتبت کی اور اس کے پاس تین سو درہم بچ گئے، تو وہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے جیسے لوگوں پر خرچ کر دے۔
ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس سے ملتا جلتا قصہ بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا: انہیں مکاتبین پر خرچ کر دے۔