السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: العامل على الصدقة يأخذ منها بقدر عمله وإن كان موسرا باب: صدقہ وصول کرنے والا اس میں سے اپنے کام کے بقدر حصہ لے گا خواہ وہ مالدار ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْإِيَادِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلَّادٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ، عَنِ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعِمَالَةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَجْرِي عَلَى اللهِ، فَقَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَمَّلَنِي فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.سیدنا ابن ساعدی مالکی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ (کی وصولی) پر عامل مقرر کیا، جب میں اس سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کر دیا تو انہوں نے میرے لیے اجرت کا حکم دیا، میں نے کہا: میں نے تو صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے کام کیا ہے اور میرا اجر اللہ پر ہے، انہوں نے فرمایا: جو تمہیں دیا جائے وہ لے لو، کیونکہ میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں (یہی) کام کیا تھا تو آپ ﷺ نے مجھے اجرت دی اور میں نے بھی تمہاری طرح بات کہی تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”جب تمہیں کوئی چیز بغیر سوال کیے دی جائے تو اس کو کھا پی لو اور چاہو تو صدقہ کر دو۔“