السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: قسم الصدقات على قسم الله تعالى وهي سهمان ثمانية ما داموا موجودين باب: اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ تقسیم کے مطابق صدقات کی تقسیم کا بیان، اور وہ آٹھ حصے ہیں جب تک وہ (مستحقین) موجود ہوں
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ} [التوبة: 60] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَأَحْكَمَ اللهُ فَرْضَ الصَّدَقَاتِ فِي كِتَابِهِ ثُمَّ أَكَّدَهَا فَقَالَ: {فَرِيضَةً مِنَ اللهِ} [النساء: 11] قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَدِيثِ الصُّدَائِيِّ: " إِنَّ اللهَ لَمْ يَرْضَ فِيهَا بقسْمِ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَلَا نَبِيٍّ مُرْسَلٍ حَتَّى قَسَمَهَا ".اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ ”صدقات (زکاۃ) تو صرف فقیروں، مسکینوں، ان پر کام کرنے والوں، ان لوگوں کے لیے ہیں جن کے دلوں کو مانوس کرنا مقصود ہو، اور گردنیں (غلام) آزاد کرانے میں، قرض داروں کے لیے، اللہ کی راہ میں اور مسافر کے لیے ہیں۔“ [سورة التوبة: 60]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں صدقات کی فرضیت کو محکم فرما دیا، پھر اسے مزید مؤکد کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَرِيضَةً مِنَ اللهِ﴾ ”(یہ) اللہ کی طرف سے مقرر کردہ فریضہ ہے۔“ [سورة التوبة: 60]“
انہوں نے فرمایا: ”اور روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صُدائی (سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ) کی حدیث میں فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس (زکاۃ) کے بارے میں کسی مقرب فرشتے اور نہ کسی نبی مرسل کی تقسیم پر راضی ہوا، یہاں تک کہ اس نے خود اسے تقسیم فرما دیا۔““
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ح وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرِ الْأَسْتَرَابَاذِيِّ بِهَا، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْقَطِيعِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثنا أبو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْتُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ، فَقَالَ: أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَرْضَ فِيهَا بِحُكْمِ نَبِيٍّ، وَلَا غَيْرِهِ فِي الصَّدَقَاتِ حَتَّى يَحْكُمَ هُوَ فِيهَا، فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ قَالَ: فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الْأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ أَوْ أَعْطَيْنَاكَ حَقَّكَ ".سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ، جو نبی ﷺ کے صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا، میں نے اسلام قبول کرنے کے لیے سبقت کی۔ حدیث کو آگے ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دوسرا آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی ﷺ! مجھے بھی صدقہ دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے صدقات کے معاملے میں اپنے نبی یا کسی کے فیصلے کو پسند نہیں کیا، یہاں تک کہ خود اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے، اللہ تعالیٰ نے اسے آٹھ افراد (حصوں) میں طے کر دیا، اگر تو ان میں سے ہوا تو میں تجھے دے دوں گا“ یا یہ کہا: ”ہم تجھے تیرا حق دے دیں گے۔“