السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: البداية بعد قريش بالأنصار لمكانهم من المسلمين باب: مسلمانوں میں انصار کے مرتبے کی وجہ سے قریش کے بعد ان سے شروعات کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا رَجَاءُ بْنُ مُرَجَّا الْمَرْوَزِيُّ، ثنا شَاذَانُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ أَخُو عَبْدَانَ، ثنا عُثْمَانُ يَعْنِي أَبَاهُ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا هِشَامُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: مَرَّ أَبُو بَكْرٍ وَالْعَبَّاسُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يَبْكُونَ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكُمْ؟ قَالُوا: مَجْلِسُنَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَخَرَجَ وَقَدْ ⦗٦٠٤⦘ عَصَبَ رَأْسَهُ بِحَاشِيَةِ ثَوْبٍ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، وَلَمْ يَصْعَدْ بَعْدَ ذَلِكَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَقَالَ: " أُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ؛ فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَقَدْ قَضَوَا الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ شَاذَانَ.ہشام بن زید فرماتے ہیں: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے۔ ابوبکر اور عباس رضی اللہ عنہما انصار کی کسی مجلس کے پاس سے گزرے اور وہ رو رہے تھے۔ کہا: تم کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی مجلس کو یاد کر کے رو رہے ہیں۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس گئے، آپ ﷺ کو بتایا: آپ ﷺ آئے اور آپ کے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ آپ منبر پر چڑھے اور اس کے بعد منبر پر نہ چڑھ سکے، آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: ”میں تم کو انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ میرے جسم و جان ہیں، انہوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں، لیکن اس کا بدلہ جو انہیں چاہیے تھا وہ ملنا ابھی باقی ہے۔ اس لیے تم بھی ان کی نیکیوں کی قدر کرنا اور ان کی غلطیوں سے درگزر کرنا۔“