السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عقد الألوية والرايات باب: جھنڈے اور علم باندھنے کے متعلق جو مروی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي مَسْجِدِ مِنًى فَسَأَلَهُ عَنْ إِرْخَاءِ طَرَفِ الْعِمَامَةِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: أُحَدِّثُكَ عَنْهُ إِنْ شَاءَ اللهُ بِعِلْمٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً، وَأَمَّرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهَا، وَعَقَدَ لَهُ لِوَاءً فَقَالَ: " خُذْهُ بِاسْمِ اللهِ وَبَرَكَتِهِ "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: وَعَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِمَامَةٌ مِنْ كَرَابِيسَ مَصْبُوغَةٍ بِسَوَادٍ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَّ عِمَامَتَهُ ثُمَّ عَمَّمَهُ بِيَدِهِ، وَأَفْضَلَ عِمَامَتَهُ مَوْضِعَ أَرْبَعِ أَصَابِعٍ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ فَقَالَ: " هكَذَا فَاعْتَمَّ؛ فَإِنَّهُ أَحْسَنُ وَأَجْمَلُ " عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.عثمان بن عطاء اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، وہ مسجدِ منیٰ میں تھے، پس اس نے عمامے کے کنارے کے بارے میں سوال کیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے کہا: میں تجھے ان شاء اللہ علم کے ساتھ بیان کرتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو اس پر امیر مقرر کیا اور اسے جھنڈا دیا اور فرمایا: «بِسْمِ اللهِ وَبَرَكَةِ اللهِ» ”اسے اللہ کے نام اور برکت سے پکڑو۔“ اور کہا: عبدالرحمن رضی اللہ عنہ پر کرباس کا عمامہ تھا، جس پر سیاہ کڑھائی کی گئی تھی، رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا، پس اس کا عمامہ اتارا، پھر اپنے ہاتھ سے اسے باندھا اور فرمایا: ”افضل عمامہ چار انگلیوں جتنا ہے یا اس جیسا۔“ پھر فرمایا: ”یہ اچھا اور خوبصورت ہے۔“