السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في قول أمير المؤمنين عمر رضي الله عنه: ما من أحد من المسلمين إلا له حق في هذا المال باب: امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کے متعلق جو مروی ہے: ”مسلمانوں میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا اس مال میں حق نہ ہو“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ ⦗٥٧٢⦘ أَسْلَمَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " اجْتَمِعُوا لِهَذَا الْمَالِ، فَانْظُرُوا لِمَنْ تَرَوْنَهُ "، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: " إِنِّي أَمَرْتُكُمْ أَنْ تَجْتَمِعُوا لِهَذَا الْمَالِ فَتَنْظُرُوا لِمَنْ تَرَوْنَهُ، وَإِنِّي قَدْ قَرَأْتُ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ سَمِعْتُ اللهَ يَقُولُ {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْلَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} {لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ} [الحشر: ٨]، وَاللهِ مَا هُوَ لِهَؤُلَاءِ وَحْدَهُمْ، {وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا} الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ الْآيَةَ، وَاللهِ مَا هُوَ لِهَؤُلَاءِ وَحْدَهُمْ، {وَالَّذِينَ جَاءَوا مِنْ بَعْدِهِمْ} الْآيَةَ، وَاللهِ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا وَلَهُ حَقٌّ فِي هَذَا الْمَالِ، أُعْطِيَ مِنْهُ أَوْ مُنِعَ، حَتَّى رَاعٍ بِعَدَنَ ".حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: اس مال کو جمع کرو، پس دیکھو کیسے تم اس کے اہل کا خیال کرتے ہو؟ پھر ان سے کہا: میں تم کو حکم دیتا ہوں، اس مال کو جمع کرو، پس دیکھو کیسے تم اس کا اہل خیال کرتے ہو؟ اور میں نے اللہ کی کتاب کی آیات پڑھی ہیں: ﴿مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ﴾ سے ﴿أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ﴾ [سورة الحشر: 7-8] تک، اللہ کی قسم! وہ ان اکیلوں کے لیے نہیں ہے، ﴿وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ﴾ [سورة الحشر: 9]، اللہ کی قسم! ان اکیلوں کے لیے بھی نہیں، ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ﴾ [سورة الحشر: 10]، اللہ کی قسم! مسلمانوں میں سے ہر ایک کا اس مال میں حق ہے اسے دیا جائے یا نہ دیا جائے، اگرچہ عدن کا چرواہا ہی کیوں نہ ہو۔