حدیث نمبر: 12926
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ الْأَحْمَسِيِّ قَالَ: غَزَتْ بَنُو عُطَارِدٍ مَاءَ الْبَصْرَةِ، وَأُمِدُّوا بِعَمَّارٍ مِنَ الْكُوفَةِ، فَخَرَجَ قَبْلَ الْوَقْعَةِ، وَقَدِمَ بَعْدَ الْوَقْعَةِ فَقَالَ: نَحْنُ شُرَكَاؤُهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ. فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُطَارِدٍ فَقَالَ: أَيُّهَا الْعَبْدُ الْمُجَدَّعُ، تُرِيدُ أَنْ نَقْسِمَ لَكَ غَنَائِمَنَا؟ وَكَانَتْ أُذُنُهُ أُصِيبَتْ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَقَالَ: عَيَّرْتُمُونِي بِأَحَبِّ أُذُنِيَّ، أَوْ خَيْرِ أُذُنِيَّ. قَالَ: فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ " أَنَّ الْغَنِيمَةَ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ " وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةٍ أُخْرَى أَنَّهُ كَتَبَ: إِنَّمَا الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ.
حافظ ثناء اللہ

طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بنو عطارد نے غزوہ لڑا اور وہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ سے مدد کے لیے گئے تھے۔ وہ واقعہ سے پہلے نکل گئے اور واقعہ کے بعد آگئے اور کہا: ہم بھی تمہارے ساتھ غنیمت میں شریک ہیں۔ بنو عطارد کے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: اے غلام! تو ارادہ رکھتا ہے کہ ہم تیرے لیے بھی اپنی غنیمت سے حصہ نکالیں؟ اور ان کا کان اللہ کے راستے میں کاٹا گیا تھا، انہوں نے کہا: تم مجھے میرے کانوں کی عار دلاتے ہو، میری محبوب چیز سے۔ پس انہوں نے اس بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا تو انہوں نے جواب دیا: غنیمت اس کے لیے ہے جو واقعہ میں حاضر ہو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12926
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ سعيد بن منصور 2791»