السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: المدد يلحق بالمسلمين قبل أن ينقطع الحرب، أو لم يأتوا حتى ينقطع الحرب، وما روي في الغنيمة أنها لمن شهد الوقعة باب: جنگ ختم ہونے سے پہلے یا جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کی کمک پہنچنے کا بیان، اور اس روایت کا بیان کہ مالِ غنیمت صرف اسی کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہوا
فَذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ، فَقَدِمَ أَبَانُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا، وَإِنَّ حِزَمَ خَيْلِهِمْ لِيفٌ، فَقَالَ أَبَانُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَصْحَابُهُ: اقْسِمْ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: لَا تَقْسِمْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ أَبَانُ: أَنْتَ بِهَا وَبَرٌ تَحَدَّرَ عَلَيْنَا مِنْ رَأْسِ ضَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْلِسْ يَا أَبَانُ "، وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، وَهُوَ فِيمَا ذَكَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: لَمْ يُقِمِ ابْنُ عُيَيْنَةَ، يَعْنِي مَتْنَهُ، وَالْحَدِيثُ حَدِيثُ الزُّبَيْدِيِّ.عنبسہ بن سعید نے خبر دی کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سعید بن عاص سے بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابان بن سعید رضی اللہ عنہ کو کسی سریہ پر مدینہ سے نجد کی طرف بھیجا، پھر ابان اور ان کے ساتھی رسول اللہ ﷺ کے پاس خیبر فتح ہونے کے بعد آئے، ان لوگوں کے گھوڑے کمزور تھے۔ ابان نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمیں بھی کچھ دیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ان کے لیے حصہ نہ رکھیں۔“ ابان نے کہا: ”اے «وَبْر»! تیری حیثیت تو یہ ہے کہ ضان کی چوٹی سے تو ہمارے پاس آیا ہے“، نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے ابان! بیٹھ جا“ اور آپ ﷺ نے ان کے لیے حصہ نہ نکالا۔