السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما ينهى عنه من جز نواصي الخيل وأذنابها باب: گھوڑوں کی پیشانی کے بال اور ان کی دمیں کاٹنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 12903
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حُمَيْدٍ ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، جَمِيعًا عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ نَصْرٍ الْكِنَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، وَقَالَ أَبُو تَوْبَةَ: عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي ⦗٥٣٨⦘ سُلَيْمٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ، وَهَذَا لَفْظُهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَقُصُّوا نَوَاصِيَ الْخَيْلِ، وَلَا مَعَارِفَهَا، وَلَا أَذْنَابَهَا؛ فَإِنَّ أَذْنَابَهَا مَذَابُّهَا، وَمَعَارِفَهَا دِفَاؤُهَا، وَنَوَاصِيَهَا مَعْقُودٌ فِيهَا الْخَيْرُ ".حافظ ثناء اللہ
عتبہ بن عبد السلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں، ان کی ایال (گردن کے بالوں) اور ان کی دموں کو نہ کاٹو، پس بیشک اس کی دم مکھیاں اڑانے کے لیے ہے، اس کی ایال اس کی گرمی (کا ذریعہ) ہے اور اس کی پیشانی میں خیر باندھ دی گئی ہے۔“