السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما يكره من الخيل وما يستحب باب: گھوڑوں میں سے جو ناپسندیدہ اور جو پسندیدہ ہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 12901
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ حُدَيْجٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ فَرَسٍ عَرَبِيٍّ إِلَّا يُؤَذَنُ لَهُ كُلَّ يَوْمٍ بِدَعْوَتَيْنِ، يَقُولُ: اللهُمَّ إِنَّكَ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي، فَاجْعَلْنِي مِنْ أَحَبِّ مَالِهِ وَأَهْلِهِ إِلَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بھی عربی النسل گھوڑا ہو اس کے لیے ہر دن دعائیں کی جاتی ہیں، وہ کہتا ہے: «اللَّهُمَّ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ، فَاجْعَلْنِي مِنْ أَحَبِّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ» ”اے اللہ! تو نے مجھے بنی آدم میں سے جس کے سپرد کیا ہے، مجھے اس کے محبوب مال اور اہل میں سے بنا دے۔“”