السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما يكره من الخيل وما يستحب باب: گھوڑوں میں سے جو ناپسندیدہ اور جو پسندیدہ ہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 12898
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِكُلِّ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، أَوْ كُمَيْتٍ أَغَرَّ " نَحْوَهُ. وَقَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ: فَسَأَلْتُهُ لِمَ فَضَّلَ الْأَشْقَرَ؟ قَالَ: لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ جَاءَ بِالْفَتْحِ صَاحِبَ أَشْقَرَ.حافظ ثناء اللہ
ابو وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گہرے سرخ زرد رنگ کے گھوڑے کو لازم پکڑو، چمک دار یا سرخی سیاہی مائل چمکدار۔“ محمد راوی کہتے ہیں: میں نے ابن مہاجر سے پوچھا، آپ نے اشقر کو کیوں فضیلت دی؟ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا تھا، پس جو پہلا شخص فتح کے ساتھ آیا تھا وہ اشقر گھوڑے والا تھا۔