السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في سهم الراجل والفارس باب: پیدل اور سوار مجاہد کے حصے کے متعلق جو مروی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ ⦗٥٣٢⦘ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ: " لَمْ يَقَعِ الْقَسْمُ وَلَا السَّهْمُ إِلَّا فِي غَزَاةِ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَكَانَتِ الْخَيْلُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةً وَثَلَاثِينَ فَرَسًا، فَفِيهَا أَعْلَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُهْمَانَ الْخَيْلِ وَسُهْمَانَ الرِّجَالِ. فَعَلَى سُنَّتِهَا جَرَتِ الْمَقَاسِمُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْفَارِسِ وَفَرَسِهِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ؛ لَهُ سَهْمٌ، وَلِفَرَسِهِ سَهْمَانِ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمًا، فَأَمَّا يَوْمُ بَدْرٍ فَلَمْ يَقَعْ فِيهِ السُّهْمَانُ، وَلَمْ تَحْلِلْ لَهُمْ فِيهِ الْمَغَانِمُ، حَتَّى كَانَ فِيهِ مِنَ اللهِ مَا كَانَ، فَأَحَلَّهَا لَهُمْ بَعْدَ أَنْ كَادَ النَّاسُ يَهْلِكُوا، فَقَالَ {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللهِ سَبَقَ} [الأنفال: ٦٨] إِلَى آخِرِ الْآيَتَيْنِ، ثُمَّ كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ فَكَانَ عَامَ مُصِيبَةٍ، ثُمَّ كَانَ عَامُ الْخَنْدَقِ فَكَانَ عَامَ حِصَارٍ، ثُمَّ كَانَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ فَعَلَى سُنَّتِهَا جَرَتِ الْمَقَاسِمُ إِلَى يَوْمِكَ هَذَا ".عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں: تقسیم اور حصے غزوہ بنی قریظہ میں واقع ہوئے تھے۔ اس دن چھتیس گھوڑے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک گھوڑے کے لیے دو حصے اور پیدل آدمیوں کے لیے ایک ایک حصہ مقرر کیا۔ اسی پر تقسیم کا طریقہ چل نکلا، رسول اللہ ﷺ نے اس دن گھوڑے والے اور گھوڑے کے لیے تین حصے (ایک حصہ اس کا اور دو حصے گھوڑے کے) مقرر کیے اور پیدل کا بھی ایک حصہ مقرر کیا۔ لیکن بدر کے دن حصے واقع نہ ہوئے تھے اور نہ اس میں ان کے لیے غنیمتیں حلال تھیں، حتیٰ کہ قریب تھا کہ لوگ ہلاک ہو جاتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حلال کیا، فرمایا: ﴿لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ﴾ [سورة الأنفال: 68] دو آیتوں کے آخر تک۔ پھر احد کے دن عام مصیبت تھی، پھر خندق کے دن عام گھیرا تھا۔ پھر غزوہ بنو قریظہ ہوا۔ پس اسی سے تقسیم کی سنت چل نکلی آج تک۔