السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في سهم الراجل والفارس باب: پیدل اور سوار مجاہد کے حصے کے متعلق جو مروی ہے
وَأَمَّا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ثنا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمِّهِ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ، قَالَ: شَهِدْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْهَا إِذَا النَّاسُ يَهُزُّونَ الْأَبَاعِرَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: مَا لِلنَّاسِ؟ قَالُوا: أَوْحَى اللهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْنَا نُوجِفُ، فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَاقِفًا عِنْدَ كُرَاعِ الْغَمِيمِ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَقْرَأَ عَلَيْهِمْ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا} [الفتح: ١]، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَتْحٌ هُوَ؟ فَقَالَ: " إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَفَتْحٌ ". فَقُسِّمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ، لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمْ فِيهَا أَحَدٌ إِلَّا مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ، فَقَسَمَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا، وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ، مِنْهُمْ ثَلَاثُمِائَةِ فَارِسٍ، فَأَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ، وَالرَّاجِلَ سَهْمًا قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ شَيْخٌ لَا يُعْرَفُ، فَأَخَذْنَا فِي ذَلِكَ بِحَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ، وَلَمْ نَرَ لَهُ خَبَرًا مِثْلَهُ يُعَارِضُهُ، وَلَا يَجُوزُ رَدُّ خَبَرٍ إِلَّا بِخَبَرٍ مِثْلِهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَالرِّوَايَةُ فِي قَسْمِ خَيْبَرَ مُتَعَارِضَةٌ؛ فَإِنَّهَا قُسِّمَتْ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَهْلُ الْحُدَيْبِيَةِ كَانُوا فِي أَكْثَرِ الرِّوَايَاتِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ.سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ قرآن کے قاریوں میں سے تھے۔ وہ کہتے ہیں: ہم حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر ہوئے۔ جب ہم اس سے واپس ہوئے تو اچانک لوگ اونٹ دوڑانے لگے۔ بعض نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ہے۔ پس ہم نکلے اور بھاگنے لگے؛ ہم نے نبی ﷺ کو کراع الغمیم کے پاس کھڑے ہوئے پایا۔ لوگ آپ ﷺ کے پاس جمع تھے، آپ ﷺ نے ان پر پڑھا: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ ”بیشک ہم نے آپ کو واضح فتح عطا فرمائی“ [سورة الفتح: 1]۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ فتح ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم! وہ فتح ہے۔“ پس خیبر اہل حدیبیہ پر تقسیم کر دیا گیا ہے، ان کے ساتھ (اہل حدیبیہ کے ساتھ) کسی اور کو شامل نہیں کیا گیا، نبی ﷺ نے اس کو اٹھارہ حصوں پر تقسیم کر دیا اور لشکر پندرہ سو کی تعداد میں تھا، تین سو گھڑ سوار۔ پس گھوڑے والے کو دو حصے اور پیدل کو ایک حصہ دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: خیبر کی تقسیم اور اہل حدیبیہ والی روایات متعارض ہیں اور اکثر روایات کے مطابق اہل حدیبیہ چودہ سو تھے۔