السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في سلب الأسير باب: قیدی کا سامان چھیننے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12859
وَرَوَى هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَتْلِهِ رَجُلًا، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " مَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى أَسِيرٍ فَلَهُ سَلَبُهُ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ فَذَكَرَهُ. وَقَدْ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ إِسْنَادَ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الصَّحِيحِ، وَلَمْ يَسُقْ مَتْنَهُ، وَالْحُفَّاظُ يَرَوْنَهُ خَطَأً فَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ رَوَيَاهُ عَنْ يَحْيَى، فَقَالَ اللَّيْثُ فِي الْحَدِيثِ: " مَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى ⦗٥٢٧⦘ قَتِيلٍ فَلَهُ سَلَبُهُ "، وَقَالَ مَالِكٌ: " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ "، وَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ فِيهِ: " عَلَى أَسِيرٍ " غَيْرَ هُشَيْمٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حنین کا دن تھا، ایک آدمی کے قتل کی حدیث بیان کی، فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا، میں نے سنا آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو قیدی پر گواہی رکھے اس کے لیے اس کا سامان ہے۔“
حفاظ حدیث اسے غلطی سمجھتے ہیں، (لیث کی روایت میں) ہے: ”جو کسی کے قتل پر گواہی رکھے تو اس کے لیے اس کا سامان ہے“ اور (مالک کی روایت میں) ہے کہ ”جو کسی کو قتل کرے اس کے پاس گواہی بھی ہو تو اس کا سلب اس کے لیے ہے۔“ اور ہشیم کے سوا کسی نے اس میں ”قیدی پر“ کے الفاظ نہیں کہے۔