السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في قتل من رأى الإمام منهم باب: امام ان (قیدیوں) میں سے جسے مناسب سمجھے اسے قتل کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12855
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: وَكَانَ فِي الْأُسَارَى عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ ⦗٥٢٦⦘ وَالنَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ، فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفْرَاءِ قُتِلَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ، قَتَلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَمَا خُبِّرْتُ، ثُمَّ مَضَى، فَلَمَّا كَانَ بِعَرَقِ الظَّبْيَةِ قُتِلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ، فَقَالَ عُقْبَةُ حِينَ أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ: مَنْ لِلصِّبْيَةِ؟ فَقَالَ: " النَّارُ ". وَقَتَلَهُ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ.حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق کہتے ہیں: عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث قیدیوں میں شامل تھے، جب صفراء میں تھے تو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نضر بن حارث کو قتل کر دیا، آپ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی، جب آپ ﷺ عرق الطیبہ مقام پر تھے تو عقبہ بن ابی معیط کو بھی قتل کر دیا گیا، جب رسول اللہ ﷺ نے عقبہ کے قتل کا حکم دیا تو عقبہ نے کہا: صبیہ کے لیے کسے قتل کیا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آگ“ اور اسے عاصم بن ثابت بن ابی اقلح رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔