السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
جماع أبواب تفريق القسم -- باب: قسمة ما حصل من الغنيمة من دار وأرض وغير ذلك من المال أو شيء باب: تقسیم کے مختلف طریقوں کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مالِ غنیمت میں حاصل ہونے والے مکان، زمین اور دیگر اموال یا اشیاء کی تقسیم کا بیان
حدیث نمبر: 12828
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَمَّنْ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيَّ يَقُولُ: إِنَّا لَمَّا فَتَحْنَا مِصْرَ بِغَيْرِ عَهْدٍ قَامَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ فَقَالَ: اقْسِمْهَا يَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَقَالَ عَمْرٌو: لَا أَقْسِمُهَا، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللهِ لَتَقْسِمَنَّهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ عَمْرٌو: وَاللهِ لَا أَقْسِمُهَا حَتَّى أَكْتُبَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَقِرَّهَا حَتَّى تَغْزُوَ مِنْهَا حَبَلُ الْحَبَلَةِ ".حافظ ثناء اللہ
سفیان بن وہب خولانی کہتے ہیں کہ جب ہم نے مصر بغیر عہد کے فتح کیا تو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ! اسے تقسیم کر دو۔ عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تقسیم نہیں کروں گا۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اسے ضرور تقسیم کرو جیسے رسول اللہ ﷺ نے خیبر تقسیم کیا تھا۔ عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اسے تقسیم نہ کروں گا، یہاں تک کہ میں امیر المؤمنین کو لکھ دوں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا: اس کو روک کر رکھو یہاں تک کہ لڑائی کا مکمل فیصلہ ہو جائے۔