السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
جماع أبواب تفريق القسم -- باب: قسمة ما حصل من الغنيمة من دار وأرض وغير ذلك من المال أو شيء باب: تقسیم کے مختلف طریقوں کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مالِ غنیمت میں حاصل ہونے والے مکان، زمین اور دیگر اموال یا اشیاء کی تقسیم کا بیان
حدیث نمبر: 12826
وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَبَعْضِ وَلَدِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، قَالُوا: " بَقِيَتْ بَقِيَةٌ مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ فَحَصَّنُوا، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُحْقَنَ دِمَاؤُهُمْ وَيُسَيِّرَهُمْ، فَفَعَلَ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ أَهْلُ فَدَكٍ، فَنَزَلُوا عَلَى مِثْلِهِ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصَةً؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُوجَفْ عَلَيْهَا بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ ".حافظ ثناء اللہ
زہری اور عبداللہ بن ابوبکر رحمہما اللہ نے بیان کیا کہ اہل خیبر کے کچھ لوگ بچ گئے اور وہ قلعہ میں بند ہو گئے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ ان کی جان کی حفاظت کریں اور ان کو قیدی بنا لیں۔ آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا، پس اہل فدک نے بھی یہ سنا، وہ انہی کی طرح اترے۔ پس یہ خالص رسول اللہ ﷺ کے لیے تھا۔ اس لیے کہ اس پر گھوڑے اور اونٹ نہ دوڑائے تھے۔