السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: الوجه الثالث من النفل باب: نفل کی تیسری صورت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَنِ الْأَنْفَالِ، فَقَالَ: فِينَا أَصْحَابَ بَدْرٍ نَزَلَتْ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ الْتَقَى النَّاسُ بِبَدْرٍ " نَفَّلَ كُلَّ امْرِئٍ مَا أَصَابَ " ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي نُزُولِ الْآيَةِ وَالْقِسْمَةَ بَيْنَهُمْ، وَقَدْ مَضَى ذَلِكَ فِي أَوَّلِ هَذَا الْكِتَابِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا بَعَثَ الْإِمَامُ سَرِيَّةً وَجَيْشًا فَقَالَ لَهُمْ قَبْلَ اللِّقَاءِ: مَنْ غَنِمَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ بَعْدَ الْخُمُسِ، فَذَلِكَ لَهُمْ عَلَى بَعْضِ مَا شَرَطَ؛ لِأَنَّهُمْ عَلَى ذَلِكَ غَزَوْا وَبِهِ رَضُوا، وَذَهَبُوا فِي هَذَا إِلَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ: " مَنْ أَخَذَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ " وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِ الْخُمُسِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَلَمْ أَعْلَمْ شَيْئًا يَثْبُتُ عِنْدَنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا قَالَ الشَّيْخُ: الَّذِي رُوِيَ فِي هَذَا مَا ذَكَرَهُ. وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا يُخَالِفُهُ فِي لَفْظِهِ.ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم اصحابِ بدر کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، جب لوگ (بدر میں) کافروں سے ملے تو رسول اللہ ﷺ نے آپ ﷺ نے ہر ایک کو وہ دے دیا تھا جو اس کو جنگ سے ملا تھا، پھر عبادہ رضی اللہ عنہ نے نزولِ آیت اور ان کے درمیان تقسیم وغیرہ کا ذکر کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض اہل علم نے کہا: جب امام کوئی سریہ یا لشکر روانہ کرے اور دشمن سے آمنا سامنا ہونے سے پہلے ان سے کہے: جو کوئی غنیمت میں کچھ حاصل کرے گا وہ خمس کے بعد اسی کا ہوگا، تو یہ ان کی شرط کے مطابق انہیں ملے گا، کیونکہ انہوں نے اسی شرط پر جہاد کیا اور اسی پر راضی ہوئے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن فرمایا: ”جو کوئی چیز پکڑے وہ اسی کی ہے“ اور یہ حکم خمس کے نزول سے پہلے کا ہے، واللہ اعلم، اور میں نہیں جانتا کہ ہمارے نزدیک رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں کچھ ثابت ہو۔
شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: اس بارے میں جو روایت کی گئی ہے وہ وہی ہے جو انہوں نے ذکر کی، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے الفاظ کے خلاف بھی روایت کی گئی ہے۔