السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: الوجه الثاني من النفل باب: نفل (زائد عطیے) کی دوسری صورت کا بیان
حدیث نمبر: 12799
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ذَكْوَانَ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالَا: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَهْبٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ مَكْحُولًا يَقُولُ: كُنْتُ عَبْدًا بِمِصْرَ لِامْرَأَةٍ مِنْ هُذَيْلٍ، فَأَعْتَقَتْنِي، فَمَا خَرَجْتُ مِنْ مِصْرَ وَبِهَا عِلْمٌ إِلَّا حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أَرَى، ثُمَّ أَتَيْتُ الشَّامَ فَغَرْبَلْتُهَا، كُلَّ ذَلِكَ أَسْأَلُ عَنِ النَّفْلِ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي فِيهِ بِشَيْءٍ، حَتَّى لَقِيتُ شَيْخًا يُقَالُ لَهُ: زِيَادُ بْنُ جَارِيَةَ التَّمِيمِيُّ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ سَمِعْتَ فِي النَّفْلِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيَّ يَقُولُ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَفَّلَ الرُّبُعَ فِي الْبَدَاءَةِ، وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ " أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنْهُمَا.حافظ ثناء اللہ
مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں مصر میں ہذیل کی ایک عورت کا غلام تھا، اس نے مجھے آزاد کر دیا۔ میں مصر سے نہیں نکلا یہاں تک کہ میں نے علم سیکھ لیا، پھر میں شام آیا۔
پھر میں نے غنیمت کے بارے میں سوال کیا تو کسی کو بھی ایسا نہ پایا جو مجھے اس بارے میں خبر دیتا، یہاں تک کہ میں شیخ زیاد بن جاریہ رحمہ اللہ سے ملا، میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے غنیمت کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، آپ ﷺ نے ”شروع میں «الرُّبُعَ» (چوتھائی) اور لوٹنے کے بعد «الثُّلُثَ» (تہائی) دیا۔“