السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: الوجه الثاني من النفل باب: نفل (زائد عطیے) کی دوسری صورت کا بیان
حدیث نمبر: 12796
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السِّمَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَأَصَبْنَا نَعَمًا كَثِيرَةً، فَأَخَذَ كُلُّ وَاحِدٍ بَعِيرًا بَعِيرًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَعْطَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِهَامَنَا، فَأَصَابَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا سِوَى الْبَعِيرِ الَّذِي نُفِّلَ، فَمَا عَابَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا عَلَى الَّذِي أَعْطَانَا " وَرَوَاهُ عَبْدَةُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: فَنَفَّلَنَا أَمِيرُنَا بَعِيرًا بَعِيرًا لِكُلِّ إِنْسَانٍ، ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر میں بھیجا، ہم نے بہت زیادہ مال پایا۔ ہر ایک نے ایک ایک اونٹ لیا، جب ہم واپس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہر ایک کا حصہ بارہ بارہ اونٹ دیے۔ اس سے پہلے اونٹ کے علاوہ۔ پس رسول اللہ ﷺ نے ہم پر عیب نہ لگایا اور نہ اس پر جس نے ہمیں دیا تھا“۔ ابن اسحاق نے یہ الفاظ زائد کیے ہیں کہ ”ہمارے امیر نے ہمیں ایک ایک اونٹ دیا“۔