السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
بابُ مَصْرِفِ الأَرْبَعَةِ الأَخْمَاسِ مِنْ مَالِ الفَيْءِ غَيْرِ الخُمُسِ باب: مال فئی کے خمس کے علاوہ باقی چار حصوں کے مصرف کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي قَوْلِهِ {فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ} [الحشر: ٦]، قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ فَدَكٍ وَقُرًى قَدْ سَمَّاهَا لَا أَحْفَظُهَا وَهُوَ مُحَاصِرٌ قَوْمًا آخَرِينَ، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ بِالصُّلْحِ، قَالَ: {فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ} [الحشر: ٦]، يَقُولُ: " بِغَيْرِ قِتَالٍ "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: " وَكَانَتْ بَنُو النَّضِيرِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصًا لَمْ يَفْتَحُوهَا عَنْوَةً، افْتَتَحُوهَا عَلَى صُلْحٍ، فَقَسَمَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ، لَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ مِنْهَا شَيْئًا، إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَتْ بِهِمَا حَاجَةٌ " وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.امام زہری رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ﴾ [سورة الحشر: 6] کے بارے میں منقول ہے کہ نبی ﷺ نے فدک والوں سے اور بستی والوں سے (جس کا نام راوی کو بھول گیا ہے) صلح کی۔ اس حال میں کہ آپ ﷺ ایک اور قوم کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، ان لوگوں نے آپ کے پاس بطور صلح کے مال بھیجا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ﴾ [سورة الحشر: 6] یعنی بغیر لڑائی کے۔ زہری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ بنو نضیر کے مال بھی خاص رسول اللہ ﷺ کے لیے تھے کیونکہ وہ بغیر جنگ کے حاصل ہوئے تھے، کچھ زور سے تو ان کو فتح نہیں کیا تھا بلکہ صلح کے طور پر فتح کیا تھا، اس لیے نبی کریم ﷺ نے ان مالوں کو مہاجرین میں تقسیم کر دیا اور انصار کو اس میں سے کچھ نہ دیا تھا، مگر دو آدمیوں کو جو ضرورت مند تھے۔