السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوديعة— امانت رکھنے اور رکھانے کا بیان
باب: لا ضمان على مؤتمن باب: امین (جس کے پاس امانت رکھی جائے) پر کوئی تاوان نہیں ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اسْتَوْدَعَا امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ مِائَةَ دِينَارٍ عَلَى أَنْ لَا تَدْفَعَهَا إِلَى وَاحِدٍ مِنْهُمَا دُونَ صَاحِبِهِ حَتَّى يَجْتَمِعَا، فَأَتَاهَا أَحَدُهُمَا فَقَالَ: إِنَّ صَاحِبِي تُوُفِّيَ؛ فَادْفَعِي إِلِيَّ الْمَالَ، فَأَبَتْ، فَاخْتَلَفَ إِلَيْهَا ثَلَاثَ سِنِينَ، وَاسْتَشْفَعَ عَلَيْهَا حَتَّى أَعْطَتْهُ، ثُمَّ إِنَّ الْآخَرَ جَاءَ فَقَالَ: أَعْطِينِي الَّذِي لِي، فَذَهَبَ بِهَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " هَلْ بَيِّنَةٌ؟ " قَالَ: هِيَ بَيِّنَتِي، فَقَالَ: " مَا أَظُنُّكِ إِلَّا ضَامِنَةً "، قَالَتْ: أَسْأَلُكَ يَا أَبَا فُلَانٍ، أَنْ تَرْفَعَنَا إِلَى ابْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَأَتَوْهُ وَهُوَ يُطَيِّنُ حَوْضًا لَهُ فِي بُسْتَانٍ، وَهُوَ مُتَّزِرٌ بِكِسَاءٍ، فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: " ائْتِنِي بِصَاحِبِكَ وَالِي مَتَاعِكَ ".سماک، حنش سے نقل کرتے ہیں کہ دو آدمیوں نے قریش کی ایک عورت کے پاس ایک سو دینار بطورِ امانت رکھے ہوئے تھے اور یہ شرط لگائی کہ وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو نہ دے گی بلکہ جب دونوں جمع ہوں، اسی وقت دے گی۔ ان میں سے ایک آیا اور اس نے کہا: میرا دوست فوت ہو گیا ہے، پس وہ مال مجھے دے دو۔ اس عورت نے انکار کر دیا، یہاں تک کہ اسی اختلاف میں تین سال گزر گئے۔ اس شخص نے سفارش سے وہ مال لے لیا۔ پھر دوسرا آدمی آ گیا، اس نے کہا: میرا مال مجھے دو، پھر وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا تیرے پاس کوئی دلیل ہے؟ اس نے کہا: یہ عورت ہی میری دلیل ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تجھے ضامن خیال کرتا ہوں۔ اس عورت نے کہا: اے ابوفلاں! میں آپ سے سوال کرتی ہوں کہ ہمارا معاملہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس لے جائیں، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ باغ میں حوض کے پاس مٹی گوندھ رہے تھے اور کپڑے کو ازار بند کیا ہوا تھا، انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو سارا قصہ بیان کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنے ساتھی کو میرے پاس لاؤ اور اس کا سامان میرے ذمے ہے۔