حدیث نمبر: 12682
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: لَمَّا وَقَفَ الزُّبَيْرُ يَوْمَ الْجَمَلِ دَعَانِي، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ: " يَا بُنِيَّ، إِنَّهُ لَا يُقْتَلُ الْيَوْمَ إِلَّا ظَالِمٌ أَوْ مَظْلُومٌ، وَإِنِّي أَرَانِي سَأُقْتَلُ الْيَوْمَ مَظْلُومًا، وَإِنَّ مِنْ أَكْبَرِ هَمِّي لَدَيْنِي، أَفَتُرَى دَيْنُنَا يُبْقِي مِنْ مَالِنَا شَيْئًا؟ يَا بُنِيَّ، بِعْ مَالَنَا وَاقْضِ دَيْنِي، وَأَوْصِ بِالثُّلُثِ، وَثَلِّثِ الثُّلُثَ لِبَنِي عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْ مَالِنَا بَعْدَ قَضَاءِ الدَّيْنِ شَيْءٌ فَثُلُثُهُ لِوَلَدِكَ ". قَالَ هِشَامٌ: وَكَانَ بَعْضُ وَلَدِ عَبْدِ اللهِ قَدْ وَازَى بَعْضَ بَنِي الزُّبَيْرِ، خُبَيْبٌ وَعَبَّادٌ، قَالَ: وَلَهُ يَوْمَئِذٍ سَبْعُ بَنَاتٍ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: فَجَعَلَ يُوصِينِي بِدَيْنِهِ وَيَقُولُ: يَا بُنَيَّ، إِنْ عَجَزْتَ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَاسْتَعِنْ بِمَوْلَايَ، قَالَ: فَوَاللهِ مَا دَرَيْتُ مَا أَرَادَ حَتَّى قُلْتُ: يَا أَبَتِ، مَنْ ⦗٤٦٨⦘ مَوْلَاكَ؟ قَالَ: " اللهُ "، قَالَ: فَوَاللهِ مَا وَقَعْتُ فِي كُرْبَةٍ مِنْ دَيْنِهِ إِلَّا قُلْتُ: يَا مَوْلَى الزُّبَيْرِ، اقْضِ عَنْهُ، فَيَقْضِيَهُ، قَالَ: وَقُتِلَ الزُّبَيْرُ وَلَمْ يَدَعْ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا إِلَّا أَرَضِينَ، مِنْهَا الْغَابَةُ، وَأَحَدَ عَشَرَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ، وَدَارَيْنِ بِالْبَصْرَةِ، وَدَارًا بِالْكُوفَةِ، وَدَارًا بِمِصْرَ، قَالَ: وَإِنَّمَا كَانَ دَيْنُهُ الَّذِي عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَأْتِيهِ بِالْمَالِ فَيَسْتَوْدِعُهُ إِيَّاهُ، فَيَقُولُ الزُّبَيْرُ: " لَا، وَلَكِنْ هُوَ سَلَفٌ؛ إِنِّي أَخْشَى عَلَيْهِ الضَّيْعَةَ، وَمَا وَلِيَ إِمَارَةً قَطُّ، وَلَا جِبَايَةً، وَلَا خَرَاجًا، وَلَا شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي غَزْوَةٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ " قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: فَحَسَبْتُ مَا عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ فَوَجَدْتُهُ أَلْفَيْ أَلْفٍ وَمِائَتَيْ أَلْفٍ، قَالَ: فَلَقِيَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، كَمْ عَلَى أَخِي مِنَ الدَّيْنِ؟ قَالَ: فَكَتَمَ وَقَالَ: مِائَةُ أَلْفٍ، قَالَ حَكِيمٌ: مَا أَرَى أَمْوَالَكُمْ تَسَعُ لِهَذِهِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: أَفَرَأَيْتُكَ إِنْ كَانَتْ أَلْفَيْ أَلْفٍ وَمِائَتَيْ أَلْفٍ؟ قَالَ: مَا أَرَاكُمْ تُطِيقُونَ هَذَا، فَإِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاسْتَعِينُونِي، قَالَ: وَكَانَ الزُّبَيْرُ اشْتَرَى الْغَابَةَ بِسَبْعِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ، وَبَاعَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ بِأَلْفِ أَلْفٍ وَسِتِّمِائَةِ أَلْفٍ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ دَيْنٌ فَلْيُوَافِنَا بِالْغَابَةِ، قَالَ: فَأَتَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ أَرْبَعُمِائَةِ أَلْفٍ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: إِنْ شِئْتُمْ تَرَكْنَاهَا لَكُمْ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: لَا، قَالَ: فَإِنْ شِئْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا فِيمَا تُؤَخِّرُونَ إِنْ أَخَّرْتُمْ شَيْئًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَا، قَالَ: فَاقْطَعُوا لِي قِطْعَةً، قَالَ: عَبْدُ اللهِ: لَكَ مِنْ هَا هُنَا إِلَى هَا هُنَا، قَالَ: فَبَاعَهَا مِنْهُ، فَقَضَى دَيْنَهُ فَأَوْفَاهُ، وَبَقِيَ مِنْهَا أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ، قَالَ: فَقَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَالْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: كَمْ قُوِّمَتِ الْغَابَةُ، قَالَ: سِتُّمِائَةِ أَلْفٍ، أَوْ قَالَ: كُلُّ سَهْمٍ مِائَةُ أَلْفٍ، قَالَ: كَمْ بَقِيَ؟ قَالَ: أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ، قَالَ الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ: قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ: قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، وَقَالَ ابْنُ زَمْعَةَ: قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: كَمْ بَقِيَ؟ قَالَ: سَهْمٌ وَنِصْفٌ، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ بِمِائَةِ أَلْفٍ وَخَمْسِينَ أَلْفًا، وَقَالَ: وَبَاعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ نَصِيبَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ بِسِتِّمِائَةِ أَلْفٍ، فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ قَضَاءِ دَيْنِهِ قَالَ بَنُو الزُّبَيْرِ: اقْسِمْ بَيْنَنَا مِيرَاثَنَا، قَالَ: لَا وَاللهِ، لَا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ حَتَّى أُنَادِيَ بِالْمَوْسِمِ أَرْبَعَ سِنِينَ: أَلَا مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنِي فَلْنَقْضِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ كُلَّ سَنَةٍ يُنَادِي بِالْمَوْسِمِ، فَلَمَّا مَضَى أَرْبَعُ سِنِينَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ مِيرَاثَهُمْ، قَالَ: وَكَانَ لِلزُّبَيْرِ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ، وَرَفَعَ الثُّلُثَ فَأَصَابَ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ أَلْفَ أَلْفٍ وَمِائَتَيْ أَلْفٍ، فَجَمِيعُ مَالِهِ خَمْسُونَ أَلْفَ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جمل کی جنگ کے موقع پر جب زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو مجھے بلایا، میں ان کے پہلو میں جا کر کھڑا ہوگیا، انھوں نے کہا: ”بیٹے! آج کی لڑائی میں ظالم مارا جائے گا یا مظلوم، اور میں سمجھتا ہوں کہ آج میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا اور مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرضوں کی ہے، کیا تمہیں کچھ اندازہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد ہمارا کچھ مال بچ سکے گا؟“ پھر انھوں نے کہا: ”بیٹے! ہمارا مال فروخت کر کے اس سے قرض ادا کردینا۔“ انھوں نے ایک تہائی کی میرے لیے اور اس تہائی کے تیسرے حصہ کی وصیت میرے بچوں کے لیے کی، یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے بچوں کے لیے۔ انھوں نے کہا تھا: ”اس تہائی کے تین حصے کرلینا، اگر قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے اموال میں سے کچھ بچ جائے تو اس کا ایک تہائی تمہارے بچوں کے لیے ہوگا۔“ ہشام نے بیان کیا کہ عبداللہ کے بعض لڑکے زبیر کے لڑکوں کے ہم عمر تھے، جیسے خبیب اور عباد، اور زبیر کی اس وقت سات بیٹیاں تھیں، ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: پھر مجھے زبیر رضی اللہ عنہ اپنے قرض کے متعلق وصیت کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ ”بیٹا! اگر قرض ادا کرنے سے عاجز ہوجاؤ تو میرے مالک و مولیٰ سے اس میں مدد چاہنا۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! قرض ادا کرنے میں جو بھی دشواری سامنے آئی تو میں نے اسی طرح دعا کی کہ «يَا مَوْلَى زُبَيْرٍ اقْضِ عَنْهُ دَيْنَهُ» ”اے زبیر کے مولیٰ! ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرا دے“ اور ادائیگی کی صورت پیدا ہوجاتی تھی۔ چنانچہ جب زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے تو انھوں نے ترکہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ ان کا ترکہ کچھ تو اراضی کی صورت میں تھا، اسی میں غابہ کی زمین شامل تھی، گیارہ مکانات مدینہ میں تھے، دو مکان بصرہ میں، ایک مکان کوفہ میں تھا اور ایک مصر میں تھا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان پر جو اتنا زیادہ قرض ہوگیا تھا، اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ جب ان کے پاس کوئی شخص اپنا مال لے کر امانت رکھنے آتا تو آپ اسے کہتے: ”نہیں، بلکہ اس صورت میں رکھ سکتا ہوں کہ یہ میرے ذمہ بطور قرض رہے کیونکہ مجھے اس کے ضائع ہونے کا بھی خوف ہے“، زبیر رضی اللہ عنہ کبھی کسی علاقے کے امیر نہ بنے تھے اور نہ وہ خراج وصول کرنے پر کبھی مقرر ہوئے تھے اور نہ کوئی دوسرا عہدہ کبھی قبول کیا تھا، البتہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ جہاد میں شرکت کی تھی۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب میں نے اس رقم کا حساب کیا جو ان پر قرض تھی تو ان کی تعداد بائیس لاکھ تھی۔ بیان کیا کہ پھر حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ملے تو پوچھا: ”بیٹے! میرے بھائی پر کتنا قرض رہ گیا ہے؟“ عبداللہ نے چھپانا چاہا اور کہہ دیا کہ ”لاکھ“، اس پر حکیم نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں تو نہیں سمجھتا کہ تمہارے پاس موجود سرمایہ سے یہ قرض ادا ہو سکے گا“، اب عبداللہ نے کہا: ”اگر قرض بائیس لاکھ ہو تو آپ کی کیا رائے ہوگی؟“ انھوں نے کہا: ”پھر تو یہ قرض تمہاری برداشت سے باہر ہے، خیر اگر کوئی دشواری پیش آئے تو مجھ سے کہنا۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے غابہ کی جائیداد ایک لاکھ ستر ہزار میں خریدی تھی، لیکن عبداللہ نے وہ سولہ لاکھ میں بیچی، پھر اعلان کیا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ پر جس کا قرض ہو وہ غابہ میں آکر ہم سے مل لے۔ چنانچہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما آئے، ان کا زبیر رضی اللہ عنہ پر چار لاکھ روپیہ تھا، انھوں نے پیش کش کی کہ ”اگر تم چاہو تو میں یہ قرض چھوڑ سکتا ہوں“، لیکن عبداللہ نے کہا کہ ”نہیں“، پھر انھوں نے کہا: ”اگر تم چاہو تو میں سارے قرض کی ادائیگی کے بعد لے لوں گا۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس پر کہا کہ ”تاخیر کی ضرورت نہیں ہے۔“ آخر انھوں نے کہا کہ ”پھر اس زمین میں میرے حصہ کا قطعہ مقرر کر دو۔“ عبداللہ نے بیان کیا کہ زبیر کی جائیداد اور مکانات وغیرہ بیچ کر ان کا قرض ادا کردیا گیا اور سارے قرض کی ادائیگی ہوگئی اور غابہ کی جائیداد سے ساڑھے چار حصے ابھی بک نہیں سکے تھے، اس لیے عبداللہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس (شام) تشریف لے گئے، وہاں عمرو بن عثمان، منذر بن زبیر اور ابن زمعہ رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا کہ غابہ کی جائیداد کی کتنی قیمت طے ہوئی؟ انھوں نے بتایا کہ سات لاکھ یا کہا ہر حصے کی ایک لاکھ طے پائی تھی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اب کتنے باقی رہ گئے ہیں؟“ انھوں نے بتایا: ”ساڑھے چار حصے۔“ اس پر منذر نے کہا: ”ایک حصہ ایک لاکھ میں میں لیتا ہوں“، عمرو بن عثمان نے کہا: ”ایک حصہ ایک لاکھ میں میں لیتا ہوں“، اس پر زمعہ نے کہا: ”ایک حصہ ایک لاکھ میں میں لیتا ہوں“، اس کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اب کتنے حصے باقی بچے ہیں؟“ انھوں نے کہا: ”ڈیڑھ حصہ۔“ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اسے ڈیڑھ لاکھ میں لے لیتا ہوں“، پھر بعد میں عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے اپنا حصہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو چھ لاکھ میں بیچ دیا، پھر جب ابن زبیر رضی اللہ عنہما قرض کی ادائیگی کرچکے تو زبیر کی اولاد نے کہا کہ ”اب ہماری میراث تقسیم کردیجیے“، لیکن عبداللہ نے کہا: ”ابھی تمہاری میراث اس وقت تک تقسیم نہیں کرسکتا جب تک چار سال تک ایام حج میں اعلان نہ کرلوں کہ جس شخص کا بھی زبیر پر قرض ہو وہ ہمارے پاس آئے اور اپنا قرض لے جائے۔“ راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ نے اب ہر سال ایام حج میں اس کا اعلان کرانا شروع کیا اور جب چار سال گزر گئے تو عبداللہ نے ان کو میراث تقسیم کردی اور زبیر کی چار بیویاں تھیں اور عبداللہ نے تہائی حصہ بیچی ہوئی رقم سے نکال لیا تھا، پھر بھی ہر بیوی کے حصہ میں بارہ بارہ لاکھ کی رقم آئی اور کل جائیداد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی پانچ کروڑ دو لاکھ ہوئی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوصايا / حدیث: 12682
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3129»